واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس سے غزہ میں قید یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کی تصدیق کی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے حماس سے بات چیت کی ہے اور اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ حماس تمام یرغمالیوں کو فوراً رہا کرے۔ اگر حماس اس مطالبے پر عمل نہیں کرتا تو اس کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کے داخلے کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور 2 اپریل کو انہوں نے ایک اہم دن قرار دیا۔ یہ تاریخ امریکی سیاست میں ایک سنگ میل بن سکتی ہے، کیونکہ صدر ٹرمپ نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت اقدامات کا عندیہ دیا۔روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے بھی ٹرمپ نے اپنی رائے کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکہ نے یوکرین کی مدد کے لیے اربوں ڈالر کی امداد دی ہے۔ اس کے باوجود وہ چاہتے ہیں کہ جنگ کا خاتمہ جلد ہو اور دونوں ممالک ایک امن معاہدہ کر لیں۔
ٹرمپ نے سعودی عرب، روس اور یوکرین کے ساتھ امریکی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان ممالک کے ساتھ بڑے تجارتی معاہدے کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ممالک اپنی افواج پر مناسب اخراجات نہیں کر رہے، وہ امریکی دفاع کے مستحق نہیں۔یہ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے اس سے قبل بھی حماس کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے غزہ میں قید یرغمالیوں کو رہا نہ کیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ٹرمپ کے یہ بیانات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ عالمی سطح پر اپنے اثر و رسوخ کو مزید بڑھانے اور تنازعات کے حل کے لیے ایک فعال کردار ادا کرنے کے خواہاں ہے۔