حماس کی قید سے تین اسرائیلی خواتین یرغمالیوں کی رہائی

حماس کی قید سے تین اسرائیلی خواتین یرغمالیوں کی رہائی

غزہ میں جاری جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کے تحت حماس نے تین اسرائیلی یرغمالی خواتین کو رہا کر دیا۔

 رہائی پانے والی خواتین میں 28 سالہ برطانوی نژاد ایمیلی داماری، 24 سالہ رومی گونن، اور 31 سالہ ورون شتنبر خیر شامل ہیں۔

ایمیلی داماری کی خوشی اور بیان
ایمیلی داماری، جنہیں 471 دن حماس کی قید میں رہنے کے بعد رہا کیا گیا، نے اپنی رہائی کو ’’زندگی کی طرف واپسی‘‘ قرار دیا۔انہوں نے اپنی رہائی پر اپنے خاندان، دوستوں، اور ان افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اسرائیل میں احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔سوشل میڈیا پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:’’میں دنیا کی سب سے خوش قسمت انسان ہوں۔ آپ سب کا شکریہ!‘‘
رہائی کی تفصیلات
حماس نے ان خواتین کو قیدیوں کے تبادلے کے تحت رہا کیا۔ایمیلی داماری، جو اسرائیلی اور برطانوی شہریت رکھتی ہیں، 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے دوران یرغمال بنائی گئی تھیں۔عرب میڈیا کے مطابق، حماس اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت یہ رہائی ممکن ہوئی۔
جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ
غزہ میں جاری تنازع کے دوران حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا۔اس معاہدے کے تحت قیدیوں کا تبادلہ کیا جا رہا ہے، جس میں یرغمالیوں کی رہائی بھی شامل ہے۔
عالمی ردعمل
رہائی کے اس عمل کو انسانی حقوق کے علمبرداروں اور عالمی برادری نے مثبت قدم قرار دیا ہے۔اس اقدام کو غزہ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔