ویب ڈیسک: امریکا نے کہا ہے کہ کابل ائیرپورٹ حملے کے ماسٹر مائنڈ، داعش دہشت گرد شریف اللہ کی گرفتاری کا کریڈٹ پاکستان کو جاتا ہے اور اس تعاون پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
ترجمان امریکی محکمہ خارجہ، ٹیمی بروس نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ پاک افغان سرحد سے داعش کے دہشت گرد شریف اللہ کی گرفتاری اس بات کا مظہر ہے کہ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان اور امریکا کا تعاون انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے داعش کے رکن کی گرفتاری پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ٹیمی بروس نے بتایا کہ محمد شریف اللہ اس وقت حراست میں ہے اور امریکی حکومت کو اس کی گرفتاری پر پاکستان کا تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
داعش دہشت گرد شریف اللہ کی گرفتاری کا کریڈٹ پاکستان کو جاتا ہے: ٹیمی بروس نے کہا کہ اس کامیابی کا کریڈٹ پاکستان کو جاتا ہے، اور امریکا اس تعاون پر پاکستان کا شکر گزار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑنا پاکستان اور امریکا کے مشترکہ مفاد میں ہے۔
مائیکل والٹز، امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے بھی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی تھی۔
پس منظر: پاکستان نے سی آئی اے کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر داعش کے کمانڈر شریف اللہ کو گرفتار کیا، جو 2021 میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے دوران کابل ائیرپورٹ پر ہونے والی دہشت گردی کی سازش میں ملوث تھا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق، پاکستان نے ایک اسپیشل آپریشن کے دوران پاک افغان سرحد سے شریف اللہ کو گرفتار کیا۔
گرفتاری کی تفصیلات: گرفتار دہشت گرد کو گزشتہ روز امریکی ریاست ورجینیا کی وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا۔ شریف اللہ نے پاکستانی حکام کے سامنے افغانستان، روس اور ایران میں حملوں کا اعتراف کیا ہے۔
امریکی صدر کا شکریہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دہشت گردی کے خلاف تعاون میں پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے 2021 میں کابل حملے کے دہشت گرد کی گرفتاری میں پاکستان کی مدد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "میں خوشی سے اعلان کرتا ہوں کہ افغانستان میں دہشت گردی کے بڑے ذمہ دار کو پکڑا گیا ہے۔"
وزیراعظم شہباز شریف کا ردعمل: وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو تسلیم کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
یاد رہے کہ 2021 میں افغانستان میں امریکی فوج کے انخلا کے دوران کابل ائیرپورٹ پر خود کش حملے میں 13 امریکی فوجی اور 170 افغان شہری مارے گئے تھے۔