ایران امریکہ جنگ، وائیٹ ہاؤس کی حکمت عملی تبدیل

 تصور حسین شہزاد
اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی ناکامی اور عبرتناک شکست کے بعد پالیسی تبدیل کر دی گئی ہے۔ اب اس جنگ میں ایک بڑا عرب ملک امریکا کی خصوصی ہدایات پر اس جنگ کا حصہ بن رہا ہے، جبکہ اسرائیل ایرانی حملوں کے بعد اپنی حفاظت کے لیے پس منظر میں جا چکا ہے۔ یہ ایک سوچی سمجھی پالیسی ہے، جس کا آغاز سینٹ کام کے زیراہتمام بحرین میں منعقدہ گیارہ عرب ممالک کے فوجی و عسکری حکام کے اجلاس میں کیا گیا۔ اس اجلاس میں دو اہم نکات پر خصوصی طور پر فوکس کیا گیا، جس میں عرب ممالک کا ایران کے خلاف ایک اتحاد تشکیل دینا، خطے میں فرقہ وارانہ جنگ کا محاذ گرم کرنا، جس میں ترکیہ اور شام کے سابقہ دہشتگرد اور موجودہ صدر جولانی کو اہم ذمہ داری ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک بڑے عرب کی سربراہی میں یمن کے حوثیوں کے خلاف حملے شروع کرنا، اسرائیل کا پس منظر میں چلے جانا، اس سارے پلان کا ایک اہم نکتہ دکھائی دیتا ہے۔ ماضی میں یہ واضح ہوا ہے کہ جب بھی اسرائیل خطے کے معاملات میں مداخلت کرتا ہے تو تمام عرب و غیر عرب مسلم عوام اسرائیل کیخلاف اپنی خاموش نفرت کا اظہار کرتے ہیں اور یوں اس عمل کے اثرات مکمل طور پر گرفت میں نہیں رہتے۔ اسی پلان کے مطابق اسرائیل کو پس منظر میں رکھ کر محفوظ رکھنا ہے اور امریکہ و اسرائیل کی یہ جنگ اب عرب ممالک کے ہاتھوں میں دی جا رہی ہے۔ ترکیہ اس منصوبہ بندی کا اہم حصہ دکھائی دے رہا ہے۔ ایک بڑا عرب ملک اس جنگ کو لیڈ کرے گا۔ یمن کے ایشو کو بنیاد بنا کر، صنعا ایئر پورٹ پر بمباری اور اپنی یمنی پراکسیز گروہوں کو متحد کرنا، بتا رہا ہے کہ بڑا عرب ملک اس نئے ریجنل امریکی پلان پر عملدرآمد کا آغاز کر چکا یے۔ سونے پر سہاگہ اس بڑے عرب ملک کے ولی عہد کا امریکی صدر ٹرمپ کو فون کرکے یمن کے حوثی مجاہدین کے خلاف مدد کے لئے اپیل کرنا ہے۔ یہ سارے ڈائنامکس ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ جنگ اب عربوں اور ایران کے درمیان ہوگی، امریکا بھی مار کھا کر اس جنگ سے نکل جائیگا اور سائیڈ لائن پر بیٹھ کر عربوں کو صرف اسلحہ بیچے گا، جبکہ خطے کے ممالک میں ماضی کی طرح ایک بار پھر فرقہ واریت کی ا?گ بھڑکائی جائے گی۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام ا?باد میں اس بڑے عرب ملک کے سفارت خانے میں علماء￿  کا مشاورتی اجلاس بھی ہو چکا ہے۔ اس اجلاس میں تمام تکفیری گروہوں کے سرگردہ رہنماوں کو خصوصی طور پر بلایا گیا تھا۔ ایسا لگ رہا ہے کہ تکفیریوں کو پاکستان کے مسلمانوں میں نفرت کی ا?گ سلگانے کا ہدف دیدیا گیا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ قتل و غارت کا سلسلہ شروع کر دیا جائے اور اہم شخصیات اور علمائے کرام کی ٹارگٹ کلنگ کی جائے۔ پاکستان کے سکیورٹی ادارے اس وقت چوکس ہیں۔ حکومت اور فوج بھی ایک پیج پر ہے۔ بلوچستان میں "ا?پریشن شعبان" سکیورٹی اداروں کا بروقت فیصلہ ہے کہ دہشت گرد، خواہ وہ افغانستان سے داخل ہوئے ہوں، یا بھارت کی ہدایات پر اندر سے  کارروائیاں کر رہے ہوں، ان کا صفایا کیا جائے۔ انڈیا اور اسرائیل مل کر پاکستان میں بدامنی پیدا کر رہے ہیں، ا?زاد کشمیر سے بلوچستان تک ہر جگہ سر اْٹھاتے معاملات قابل توجہ ہیں۔ یہ صورتحال عرب ممالک میں بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ کیونکہ وائٹ ہاوس کے بلیک باسی، نہیں چاہتے کہ وہ اب مزید ایران کے ہاتھوں ذلیل ہوں اور عالمی سطح پر انہیں مزید سبکی کا سامنا کرنا پڑے۔ صیہونی میڈیا ان کے ہاتھ میں ہونے کے باوجود ہر جگہ ایران کی فتح کے چرچے ہیں۔ اس لئے امریکہ اس جنگ سے شکست کا داغ اپنے ماتھے پر سجا کر باہر نکل جائے گا اور محاذ عرب سنبھال لیں گے۔ دشمن کی کوشش ہے کہ ا?یت اللہ شہید سید علی خامنہ ای? کی حکمت عملی سے جو امت متحد ہوگئی ہے، شیعہ سنی کے حصار سے نکل ا?ئی ہے، اب دشمن دوبارہ امت میں تفرقے کی پلاننگ کر چکا ہے۔ اس لئے امت کو بیداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ایران کے ساتھ عربوں کی لڑائی میں نقصان مسلمانوں کا ہی ہوگا۔ عرب ممالک کے حکمرانوں بھی غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اب امریکہ کے ہاتھوں میں مزید کھلونا نہ بنیں، بلکہ عرب حکمران اپنے اپنے ملکوں میں قائم امریکی اڈے ختم کرکے اسے مشرق وسطی سے نکال باہر کریں۔ اس سے جہاں امت میں اتحاد قائم ہوگا وہیں مشرق وسطی میں امن آنے سے خطہ ترقی بھی کرے گا۔ اور امید ہے کہ عرب پیاسا مرنے کی بجائے امریکہ کو خطے سے نکالنے میں کردار ادا کریں گے۔