یکجہتی کشمیر۔۔۔جذبات کی بہتات حکمت عملی کا فقدان

ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر 
کشمیر کوئی عام خطہ زمین نہیں، یہ پاکستان کی روح میں اتر جانے والا وہ سوال ہے جو قیامِ پاکستان کے دن سے آج تک جواب مانگ رہا ہے۔ یہ وہ زخم ہے جو وقت کے ساتھ بھرنے کے بجائے مزید رستا گیا اور مزید گہرا ہوتا چلا گیا۔ کشمیر پاکستان کے لیے محض ایک متنازعہ علاقہ نہیں بلکہ وہ نظریاتی بنیاد ہے جس پر اس مملکتِ خداداد کی عمارت کھڑی ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دے کر کسی جذباتی کیفیت میں بات نہیں کی تھی، بلکہ ایک ایسی حقیقت بیان کی تھی جسے جھٹلانا ممکن نہیں۔ کیونکہ جس قوم کی شہ رگ پر دشمن کا ہاتھ ہو وہ قوم سکون سے سانس نہیں لے سکتی ہے۔ 
جغرافیائی لحاظ سے کشمیر پاکستان کی زندگی کی لکیر ہے۔ پاکستان کے تمام دریا کشمیر کے پہاڑوں سے نکلتے  ہیں۔ یہ دریا صرف پانی نہیں لاتے، یہ پاکستان کے کھیتوں کو ہریالی دیتے ہیں، اس کی صنعت کو زندگی ، اس کی معیشت کو سہارا اور اس کے کروڑوں عوام کے گھروں میں چولہے جلنے کا سبب بنتے ہیں۔اسلئے  کشمیر کے بغیر پاکستان کا تصور ایسا ہی ہے جیسے جسم کے بغیر روح اور دل کے بغیر انسان۔
کشمیر کی دفاعی اہمیت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ یہ خطہ پاکستان کے شمالی دفاعی حصار کی بنیاد ہے۔ اس کے پہاڑ، درّے اور بلندیاں قدرتی قلعوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ اس خطے پر اپنا تسلط مضبوط کرے، کیونکہ کشمیر پر قبضہ دراصل پاکستان کی سلامتی کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
اس کے باوجود یہ سوال دل کو چیر دیتا ہے کہ قیامِ پاکستان کو اٹھہتر برس گزر جانے کے بعد بھی مسئلہ کشمیر کیوں حل نہیں ہو سکا؟ کیوں آج بھی کشمیری عوام غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں؟ کیوں آج بھی وادی کشمیر میں ماں اپنے بیٹے کی راہ تکتی ہے، بہن اپنے بھائی کی لاش اٹھاتی ہے اور بچہ آنکھ کھولتے ہی ظلم دیکھتا ہے؟ اس سوال کا جواب صرف دشمن پر ڈال دینا خود فریبی ہوگی، کیونکہ اس مسئلے کے حل میں تاخیر کی ذمہ داری صرف عالمی طاقتوں پر نہیں بلکہ ہمارے اپنے رویّوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ عالمی طاقتوں نے ہمیشہ کشمیر کے معاملے پر دوہرا معیار اپنایا۔ اقوامِ متحدہ نے قراردادیں تو پاس کیں، مگر ان پر عملدرآمد کرانے کے لیے کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ 
لیکن اس سے بھی زیادہ دردناک حقیقت یہ ہے کہ خود پاکستان کے حکمران طبقے نے بھی مسئلہ کشمیر کو وہ مقام نہیں دیا جس کا یہ حق دار تھا۔ کشمیر کو قومی پالیسی کا مرکز بنانے کے بجائے اسے وقتی ضرورت کے تحت استعمال کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ مسئلہ کشمیر ایک زندہ 
قومی مسئلے کے بجائے ایک رسمی فائل بنتا چلا گیا۔ یومِ یکجہتی کشمیر منایا گیا، تقاریر ہوئیں، بینرز لگے، مگر کشمیری عوام کے لیے عملی تبدیلی نہ آ سکی۔ کشمیر کو سفارت کاری کی میز پر مستقل ایجنڈا بنانے کے بجائے وقتی نعروں تک محدود کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی کشمیری عوام وہیں کھڑے ہیں جہاں 1947 میں تھے البتہ ان کی قربانیوں کی تعداد کئی گنا بڑھ چکی ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کشمیر کا مسئلہ صرف ماضی کا نہیں بلکہ اس میں پاکستان کا مستقبل بھی ہے۔ اگر آج ہم نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش نہ کی تو آنے والی نسلیں ہم سے پوچھیں گی کہ جب کشمیر جل رہا تھا تو تم خاموش کیوں تھے؟ جب کشمیری مائیں اپنے بیٹے دفن کر رہی تھیں تو تم نے کیا کیا؟ 
مقبوضہ کشمیر کی سرزمین کوئی خاموش زمین نہیں، یہ بولتی ہے، چیختی ہے، گواہی دیتی ہے۔ اس کی وادیوں میں بہنے والی ہوا میں بارود کی بو بھی ہے اور شہادت کی خوشبو بھی۔ وہاں کے پہاڑ صرف پتھر نہیں، وہ ماں کی طرح سینہ تان کر کھڑے ہیں، جنہوں نے اپنے بیٹوں کی لاشیں دیکھی ہیں۔ وہاں کی مٹی عام مٹی نہیں، وہ خون سے تر ہے اس خون سے جو پاکستان کے نام پر بہایا گیا، اس امید پر کہ ایک دن یہ خطہ اپنے اصل وطن کے ساتھ جڑ جائے گا۔
مقبوضہ کشمیر کا شاید ہی کوئی ایسا شہر، کوئی قصبہ، کوئی گاؤں ہو جہاں الحاقِ پاکستان کے لیے جان قربان کرنے والے شہداء￿  کے قبرستان موجود نہ ہوں۔ یہ قبرستان محض قبریں نہیں، یہ تاریخ کے اوراق ہیں، یہ زندہ ثبوت ہیں کہ کشمیری عوام نے پاکستان کو صرف نقشے میں نہیں بلکہ اپنے دل میں بسایا ہوا ہے۔ ہر قبر ایک سوال ہے جو ہم سے پوچھتی ہے کہ ہماری قربانیوں کا حساب کون دے گا؟
کشمیری ماؤں نے اپنے بیٹوں کو قرآن پر ہاتھ رکھوا کر رخصت کیا۔ کشمیری باپوں نے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو یہ کہہ کر الوداع کہا کہ بیٹا، اگر لوٹ کر نہ آ سکو تو سرخرو ہو کر جانا۔ کشمیری بہنوں نے اپنے بھائیوں کے انتظار میں جوانی گزار دی، اور کشمیری بچوں نے بچپن کھیل میں نہیں، خوف میں گزارا۔ یہ سب کچھ کسی دنیاوی لالچ کے لیے نہیں تھا، یہ سب پاکستان کے نام پر تھا، اس یقین پر تھا کہ ایک دن سب قربانیاں رنگ لائیں گی۔
یہ بات کوئی جھٹلا نہیں سکتا کہ کشمیری عوام کا رشتہ پاکستان سے سیاسی نہیں، روحانی ہے۔ یہ رشتہ نعروں کا نہیں، ایمان کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ظلم کے بدترین ادوار میں بھی کشمیری عوام کے لبوں سے پاکستان کا نام مٹا نہیں۔ گولیوں کے سائے میں بھی پاکستان زندہ رہا، جیلوں کی تاریکی میں بھی پاکستان سانس لیتا رہا، اور شہادت کے لمحے میں بھی پاکستان ان کے دل میں دھڑکتا رہا۔
جب ہم پاکستانی قوم کی طرف دیکھتے ہیں تو دل کو تسلی ضرور ملتی ہے۔ پاکستانی عوام کے دل آج بھی کشمیری بھائیوں کے لیے دھڑکتے ہیں۔ عام پاکستانی آج بھی کشمیریوں کو اپنا جسمانی اور روحانی حصہ سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گلی کوچوں میں، مساجد میں، دعاؤں میں اور دلوں میں کشمیر زندہ ہے۔ کشمیر پاکستان کے دل میں بستا ہے، رہتا ہے اور دھڑکتا ہے۔
لیکن یہاں آ کر ایک تلخ حقیقت ہمارے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے اور وہ ہے قوم اور حکمرانوں کے درمیان واضح خلیج۔ عوام کا جذبہ سچا ہے، مگر حکمرانوں کا رویہ مایوس کن۔ پاکستانی عوام نے کبھی کشمیر کو بھلایا نہیں، مگر حکمرانوں نے بارہا اسے پسِ پشت ڈالا ہے۔ 

یہ رویہ خطرناک ہے، انتہائی خطرناک۔ کیونکہ قومیں نعروں سے نہیں، فیصلوں سے زندہ رہتی ہیں۔ اگر حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو لٹکائے رکھ کر بھی پاکستان آگے بڑھ سکتا ہے تو یہ ایک سنگین غلط فہمی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنے نظریاتی ستونوں کو کمزور کر دیتی ہیں، ان کا وجود آہستہ آہستہ خود سوال بن جاتا ہے۔
ابھی چند سال پہلے کی بات ہے جب بی جے پی نے مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو اپنے انتخابی ایجنڈے کا حصہ بنایا اور چند سالوں میں ہی اسے عملی جامہ بھی پہنا دیا مگر ہمارے حکمران 78سال سے ’’ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ‘‘ کے نعرے لگا رہے ہیں مگر عملاََ صورت حال یہ ہے کہ کشمیر پر ہمارا موقف دن بہ دن کمزور سے کمزور تر ہوتا چلا جارہا ہے وجہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کبھی سنجیدہ نہیں رہے۔ ہم سال ایک بار اظہار یکجہتی کشمیر منا لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بس ہم نے کشمیر پر اپنا حق ادا کردیا ہے ہم سمجھتے ہیں یہ رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور منافقانہ ہے۔ یہ اپنے ساتھ بھی دھوکہ ہے اور کشمیری قوم کے ساتھ بھی دھوکہ ہے۔ ہمارے حکمرانوں کا یہی غیر ذمہ دارانہ رویہ مسئلہ کشمیر کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔