بھارت، انڈونیشیا کے درمیان براہموس میزائل فراہمی کا دفاعی معاہدہ طے

بھارت، انڈونیشیا کے درمیان براہموس میزائل فراہمی کا دفاعی معاہدہ طے

بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی تعاون میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں ممالک نے براہموس سپرسونک کروز میزائل اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے ایسٹرا میزائلوں کی فراہمی سے متعلق اہم معاہدوں کو حتمی شکل دے دی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ معاہدے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے جکارتہ کے دورے کے دوران طے پائے، جن کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا اور خطے میں سیکیورٹی تعاون کو فروغ دینا ہے۔معاہدے کے تحت بھارت انڈونیشیا کو براہموس سپرسونک کروز میزائل نظام فراہم کرے گا، جبکہ بھارتی دفاعی کمپنی بھارت ڈائنامکس لمیٹیڈ (BDL) اور انڈونیشیا کی دفاعی کمپنی ریپبلیکورپ کے درمیان ایسٹرا میزائلوں کی فراہمی اور تکنیکی تعاون کا بھی معاہدہ طے پایا ہے۔رپورٹس کے مطابق ایسٹرا میزائل انڈونیشیا کی فضائیہ کے زیر استعمال روسی ساختہ سوخوئی Su-27 اور Su-30 لڑاکا طیاروں پر نصب کیے جائیں گے، جس سے ان طیاروں کی فضائی دفاعی اور جنگی صلاحیت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق براہموس میزائل معاہدے کی مالیت تقریباً 63 کروڑ امریکی ڈالر ہے۔ اس پیکج میں صرف میزائل ہی نہیں بلکہ فوجی تربیت، تکنیکی معاونت، بنیادی ڈھانچے کی تیاری، دیکھ بھال اور لاجسٹک سپورٹ بھی شامل ہے۔

اس معاہدے کے بعد انڈونیشیا، فلپائن اور ویتنام کے بعد براہموس میزائل نظام حاصل کرنے والا جنوب مشرقی ایشیا کا ایک اور اہم ملک بن جائے گا، جس سے خطے میں بھارت کی دفاعی برآمدات اور اسٹریٹجک اثر و رسوخ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق براہموس دنیا کے تیز ترین آپریشنل سپرسونک کروز میزائلوں میں شمار ہوتا ہے، جو آواز کی رفتار سے تقریباً تین گنا زیادہ رفتار سے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دوسری جانب ایسٹرا میزائل بھارت کا مقامی طور پر تیار کردہ فضا سے فضا میں مار کرنے والا جدید ہتھیار ہے، جسے مختلف لڑاکا طیاروں پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دفاعی معاہدے نہ صرف بھارت اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت دیں گے بلکہ بحرِ ہند اور جنوبی بحیرۂ چین میں بدلتی ہوئی علاقائی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں بھی اہم پیش رفت تصور کیے جا رہے ہیں۔