افغانستان کرکٹ ٹیم کے سابق انٹرنیشنل فاسٹ باؤلر شپور زادران طویل علالت کے بعد 38 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شپور زادران نے اپنی 39 ویں سالگرہ سے ایک روز قبل 7 جولائی کو بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں آخری سانس لی۔ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے شدید بیماری کے باعث زیرِ علاج تھے۔شپور زادران اپنی جارحانہ باؤلنگ، تیز رفتاری اور منفرد انداز کے باعث افغانستان کرکٹ کے ابتدائی دور کے نمایاں کھلاڑیوں میں شمار ہوتے تھے۔ 6 فٹ سے زائد طویل قامت فاسٹ باؤلر اپنے لمبے اور لہراتے بالوں کی وجہ سے بھی شائقین میں خاصی مقبولیت رکھتے تھے۔شپور زادران نے افغانستان کرکٹ کے عروج کے ابتدائی برسوں میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے 2009 سے 2020 کے دوران افغان ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے 44 ایک روزہ بین الاقوامی اور 36 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے۔رپورٹس کے مطابق شپور زادران طویل عرصے تک پاکستان کے شہر پشاور میں بطور مہاجر مقیم رہے، جہاں سے انہوں نے اپنی کرکٹ کا آغاز کیا۔
اس دوران ان کے ابتدائی ساتھی کھلاڑیوں میں افغانستان کے معروف کرکٹرز محمد نبی، اصغر افغان اور دولت زادران بھی شامل تھے۔سابق فاسٹ باؤلر نئی دہلی کے ایک اسپتال میں انتہائی نگہداشت کے شعبے میں زیرِ علاج تھے، جہاں وہ ہیموفاگوسائٹک لیمفو ہسٹیوسائٹوسس (HLH) نامی سنگین مدافعتی بیماری سے لڑ رہے تھے۔شپور زادران کے انتقال پر افغانستان کرکٹ سے وابستہ شخصیات اور مداحوں کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ انہیں افغان کرکٹ کے ابتدائی ہیروز میں شمار کیا جا رہا ہے۔