80 پاور پلانٹ آئندہ سال ریلوے میں شامل ہو جائیں گے، ٹرینوں کی نجکاری جاری
ایشیائی ترقیاتی بینک کیساتھ ایم ایل ون منصوبے پر بات چیت جاری :وزیر ریلوے
لاہور، اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ ریلوے کو منافع بخش ادارہ بنانے کیلئے دن رات کوشاں ہیں،ملکی تاریخ میں 78 برسوں کید وران پہلی بار سال 2025-26 میں ریلوے نے115ارب روپے کمائے، 80 پاور پلانٹ 23 مارچ تک پاکستان ریلوے میں شامل ہو جائیں گے، پرائیویٹائز کی گئی پانچ ٹرینوں سے تین ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوا دیگر ٹرینوں کی نجکاری کا عمل بھی جاری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز ریلویز ہیڈ کوارٹرز میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام ایکسپریس کے تین ریک آ چکے ،ریلوے نے مسافر ٹرینوں سے ساڑھے50 ارب ،فریٹ سے41 ارب ، پراپرٹی اینڈ لینڈ سے12 ارب ،کمرشل سے 2 ارب روپے اور سکریپ سے2 ارب روپے کمائے ،گڈ گورننس کی بدولت ریلوے انکم میں بتدریج اضافہ ہوا ، ڈیجیٹائز یشن کا پہلا فیز رواں سال30 جون کو مکمل کر لیا گیا ہے ،دوسرا فیز31 دسمبر تک مکمل کر لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ایم ایل ون، ایم ایل ٹو اور ایم ایل تھری منصوبے ناگزیر ہیں، ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ ایم ایل ون منصوبے پر بات چیت جاری ہے ، منصوبے کی تکمیل سے روہڑی سے کراچی کا سفر پانچ گھنٹے کم ہو جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ پہلی بار چاروں صوبوں میں آٹھ برانچ ریلوے روٹس تعمیر کیے جائیں گے ،ریلوے ملازمین کے جی پی فنڈز کی 50 کروڑ روپے کی ادائیگی کر دی۔حنیف عباسی نے کہا کہ ریلوے میں تمام ٹھیکے اوپن آکشن کے ذریعے دیے جا رہے ہیں،بادامی باغ کی آکشن میں 52 ملین روپے کے بجائے ساڑھے چار سو ملین روپے کی آمدن ہوئی،اپنے لئے مختص خصوصی سیلون صرف ایک بار استعمال کیا۔