ویب ڈیسک: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کراچی چیمبر آف کامرس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے سہولیات میں اضافہ، سفری نظام کی بہتری اور پاسپورٹ کو عالمی سطح پر باوقار بنانے کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئندہ دو برسوں میں گرین پاسپورٹ کی اہمیت اور وقعت میں نمایاں اضافہ ہو گا۔
بلیو پاسپورٹ کا وعدہ، پاسپورٹ ریکنگ نظام میں بہتری
محسن نقوی نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بلیو پاسپورٹ کا وعدہ کیا تھا، اور حکومت اس سمت میں پیش رفت کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاسپورٹ ریکنگ (ٹریکنگ) سسٹم کو جدید بنانے پر بھی کام جاری ہے تاکہ عوام کو سفری و دستاویزی امور میں سہولت میسر آ سکے۔
اوورسیز پاکستانیوں کے لیے سہولیات میں اضافہ
وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ عمان میں پاکستانیوں کے ویزے کھلوا دیے گئے ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات سے بھی ویزہ مسائل پر بات چیت جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت بیرون ملک پاکستانیوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے پوری سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔
کراچی کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے
محسن نقوی نے کراچی کو ملک کا سب سے بڑا اور معاشی حب قرار دیتے ہوئے کہا کہ "کراچی بڑا شہر ہے، مسائل بھی زیادہ ہیں، مگر ہم سب کی کوشش ہے کہ ایک صحت مند کراچی بنے، کیونکہ صحت مند کراچی کا مطلب ہے صحت مند پاکستان"۔انہوں نے کہا کہ کراچی سیف سٹی منصوبہ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی توجہ کا مرکز ہے۔ انہوں نے فیصل آباد کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سیف سٹی جیسے نظام سے وہاں جرائم میں واضح کمی آئی، اور ایسی ہی کامیابی کراچی میں بھی متوقع ہے۔ اس ضمن میں سندھ پولیس کو بھی کریڈٹ دیا جانا چاہیے۔
انکروچمنٹ اور جرائم پر سخت مؤقف
وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ انکروچمنٹ (غیر قانونی تجاوزات) کے خاتمے کے لیے سزا و جزا کا نظام ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں انکروچمنٹ پر جرمانے بڑھا دیے گئے ہیں اور وزیراعظم و آرمی چیف بھی اس معاملے پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔
محرم الحرام اور اسمگلنگ کی صورتحال
محسن نقوی نے بتایا کہ محرم الحرام کے دس دن پُرامن گزرے، اور اس دوران موبائل سروس کی بندش کم سے کم رکھی گئی تاکہ عوام کو تکلیف نہ ہو۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کچھ ماہ قبل ڈالر اور دیگر اشیاء کی اسمگلنگ کی شکایات تھیں، مگر اب صورتحال کافی حد تک قابو میں ہے۔
مستقبل کے عزائم
آخر میں وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حکومت کا پختہ عزم ہے کہ ٹیکس نظام، سکیورٹی، اور شہری سہولیات میں بہتری کے ذریعے پاکستان کو ایک بہتر مقام دلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت ملک کے تمام بڑے شہروں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔