لاہور میں کم عمر ڈرائیورز کے خلاف کریک ڈاؤن میں شدت، سی ٹی او کا سخت احکامات جاری

لاہور میں کم عمر ڈرائیورز کے خلاف کریک ڈاؤن میں شدت، سی ٹی او کا سخت احکامات جاری

ویب ڈیسک: لاہور میں کم عمر ڈرائیورز کے خلاف کارروائی کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔

 چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) لاہور نے اس سلسلے میں ٹریفک وارڈنز کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون شکنی کرنے والے کم عمر ڈرائیورز اور ان کے والدین کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے۔سی ٹی او کے مطابق، کم عمر افراد کو گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے کی اجازت دینا نہ صرف خطرناک ہے بلکہ یہ قانون کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے کیسز میں صرف بچے کے خلاف نہیں بلکہ والدین یا سرپرستوں کو بھی برابر کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔

جون میں کارروائی کی تفصیل
سی ٹی او لاہور نے بتایا کہ صرف یکم سے 30 جون 2025 کے دوران کم عمر ڈرائیورز کے خلاف:

33,277 چالان کیے گئے
251 مقدمات درج کیے گئے
یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ ٹریفک پولیس اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور شہر میں سڑکوں کو محفوظ بنانے کے لیے مسلسل کارروائیاں جاری ہیں۔

سیف سٹی کیمروں کی مدد سے نگرانی
سی ٹی او نے مزید کہا کہ اب کم عمر ڈرائیورز کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے سیف سٹی کیمروں کی مدد بھی حاصل کی جائے گی۔ کیمروں کی مدد سے ایسے افراد کی شناخت کی جائے گی جو نابالغ بچوں کو گاڑیاں یا موٹر سائیکلیں چلانے کی اجازت دیتے ہیں۔سیف سٹی میں تعینات ٹریفک اسٹاف کو بھی خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ فوری طور پر خلاف ورزی کی نشاندہی کریں اور فوری کارروائی کو یقینی بنائیں۔

عوام سے اپیل
ٹریفک پولیس نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے کم عمر بچوں کو ہرگز گاڑیاں یا موٹر سائیکل چلانے کی اجازت نہ دیں، کیونکہ یہ عمل نہ صرف قانون شکنی ہے بلکہ ان بچوں اور دوسروں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔