مردہ7دن شفاء انٹرنیشنل میں رہا‘انتظامیہ ہر روز ایک لاکھ وصول کرتی رہی کنوینئر قائمہ کمیٹی

قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے صحت نے آئندہ میٹنگ میں پرائیویٹ ہسپتالوں کی انتظامیہ کوطلب کرلیا‘کسی کا ڈیٹا نہیں دے سکتے:ایف بی آر

اسلام آباد(آن لائن)قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے صحت نے آئندہ میٹنگ میں پرائیویٹ ہسپتالوں کی انتظامیہ کوطلب کرلیا، ایک مریض کی پمز میں ڈیتھ ہو چکی تھی شفا انٹرنیشنل نے سات روزرکھا اور ہر روز ایک لاکھ روپے وصول کرتے رہے،کمیٹی میں انکشاف قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے صحت کا اجلاس کنوئنیر ڈاکٹر امجد کی زیر صدارت یوا،اجلاس میں سی ڈی اے کی زمین پر بننے والے ہسپتالوں کو زمین دینے اور این او سی ریوائز پربریفنگ دیتے  ہوئے وزارت قانون حکام نے بتایا ہم نے ابھی اس پر کام نہیں کیا۔پندرہ دن گزرنے کے بعد بھی کام نہ کرنے پر کمیٹی نے برہمی کااظہارکیا،ڈی جی لا سی ڈی اے نے بتایاکہ بنیادی قوانین کے تحت جو لیز دی جاتی ہے ہم اس میں تبدیلی نہیں کر سکتے ، اس کے تمام اختیارات  سی ڈی اے بورڈ کے پاس ہیں وہ بھی تبدیلی نہیں کر سکتے ، ممبر کمیٹی شائستہ خان نے کہا شفا انٹر نیشنل کے علاوہ کسی بھی ہسپتال کا لیزایگریمنٹ نہیں دیا گیا، کمیٹی نے نو جولائی کو  پرائیویٹ ہسپتالوں کی انتظامیہ کو کمیٹی میں بلانے کا فیصلہ کیا۔زہرہ ودو فاطمی  نے کہا پرائیویٹ ہسپتالوں میں بندہ مررہا ہوتو بھی ہسپتال کہتا ہے پہلے پیسے جمع کرواو ،کنوئنیر کمیٹی نے کہا میں نے معروف ہسپتال کی جانب سے بچی کو سرکاری ہسپتال بجھوانے پر بچی کا معاملہ اٹھایا تھا  جو فوت ہو گئی ،   ایک مریض کی پمز میں ڈیتھ ہو چکی تھی شفا انٹرنیشنل نے سات روزرکھا اور ہر روز ایک لاکھ روپے وصول کرتے رہے۔ایف بی آر حکام  نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ ہم اپنے کلائنٹ کا ڈیٹا ہم کسے کو بھی نہیں دے سکتے  ہم پابند نہیں کہ آپ کو یہ ڈیٹا دیں۔کنوئنیر کمیٹی نے استفسارکیاکہ ہمیں بتایا جائے کہ اسلام آباد کے کتنے ہسپتال ٹیکس سے مستثنی ہیں ؟زہرہ ودود فاطمی نے کہاکہ ایف بی آر میں پی سی پی کا ادارہ بنایا گیا جو کسی کام کا نہی اسے بند کیا جائے۔جس پر ایف بی آر حکام بے بتایاکہ پی سی پی ہمارا ادارہ نہیں ہے۔