پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف ماڈل و اداکارہ صحیفہ جبار خٹک ایک بار پھر سوشل میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔
ان دنوں ان کی انسٹاگرام پر شیئر کی گئی نئی تصاویر وائرل ہو رہی ہیں، جنہوں نے مداحوں اور ناقدین دونوں کو تقسیم کر دیا ہے۔
متنازع تصاویر:
صحیفہ کی حالیہ تصاویر میں وہ مغربی طرز کے بولڈ لباس میں نظر آ رہی ہیں، جن میں:
ڈیپ نیک لائنز
بیک لیس جمپ سوٹ
آف شولڈر میکسی شامل ہیں۔
اداکارہ نے ان تصاویر کے کیپشن میں خود بھی شکوک کا اظہار کرتے ہوئے لکھا:
"یہ AI ہے؟ یا حقیقت؟ یا فوٹو شاپ؟ کچھ نہیں کہہ سکتی۔"
سوشل میڈیا کا ردِعمل:
تصاویر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی:کئی صارفین نے دعویٰ کیا کہ تصاویر مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تخلیق کی گئی ہیں۔کچھ صارفین نے دلیل دی کہ تصاویر میں صحیفہ کے ہاتھ پر موجود مستقل ٹیٹو نظر نہیں آ رہا، جو ان کی اصل شناخت کا حصہ ہے۔اس بنیاد پر کئی افراد نے ان تصاویر کو غیر حقیقی قرار دیا۔
تنقید کا سلسلہ:
صحیفہ کو ان بولڈ ملبوسات پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔کئی صارفین نے اداکارہ کے فیشن انتخاب کو "غیر اخلاقی" اور "مشرقی تہذیب سے متصادم" قرار دیا۔تاہم کچھ مداحوں نے ان کا لباس، انداز اور آزادیٔ اظہار کی حمایت بھی کی۔
پس منظر:
یہ پہلا موقع نہیں کہ صحیفہ جبار خٹک کو بولڈ تصاویر پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ ماضی میں بھی:انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے فیشن اسٹائل کے باعث کئی بار تنقید اور ٹرولنگ کا سامنا کیا۔
لیکن اداکارہ اکثر ایسی تنقید کو نظرانداز کر کے اپنے انداز میں اظہارِ رائے کرتی رہی ہیں۔
نتیجہ:
صحیفہ جبار خٹک کی حالیہ تصاویر نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں تصویر کی صداقت کیسے جانی جائے؟ساتھ ہی، پاکستانی معاشرے میں خواتین کے لباس، خودمختاری اور اظہارِ رائے کی حدود پر جاری بحث بھی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔