سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے واضح کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ کو سندھ آمد پر بطور صوبائی سربراہ خوش آمدید کہا جائے گا اور آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے انہیں مکمل سیکیورٹی اور تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سندھ مہمان نوازوں کی دھرتی ہے اور سیاسی اختلافات کے باوجود مہمان نوازی سندھ کی روایت ہے۔شرجیل انعام میمن کراچی پریس کلب کی نو منتخب باڈی کو مبارکباد دینے کے لیے پریس کلب پہنچے، جہاں صدر فاضل جمیلی، جنرل سیکریٹری اسلم خان اور دیگر عہدیداران و اراکین نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ بعد ازاں نو منتخب عہدیداران نے صدر فاضل جمیلی اور جنرل سیکریٹری اسلم خان کی قیادت میں سینئر وزیر سے ملاقات کی، جس میں صحافیوں کو درپیش مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ شرجیل انعام میمن نے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرانے کی یقین دہانی کروائی۔ملاقات اور میڈیا سے گفتگو میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت آزادیٔ صحافت پر مکمل یقین رکھتی ہیں اور صحافی تنظیموں کے ساتھ ہر دور میں کھڑی رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی جمہوری جدوجہد میں پیپلز پارٹی اور صحافیوں کا کردار ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑا رہا ہے اور آئندہ بھی صحافیوں کے آج اور کل کو محفوظ بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
سینئر وزیر نے سندھ حکومت کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ صحت کے شعبے میں تاریخی اور انقلابی اقدامات کیے گئے ہیں۔ سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں علاج کے لیے نہ شناختی کارڈ دیکھا جاتا ہے اور نہ ہی ڈومیسائل کی شرط رکھی گئی ہے، بلکہ لاکھوں روپے مالیت کا علاج مکمل طور پر مفت فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی اولین ترجیح صحت عامہ کا مضبوط نظام ہے، اسی لیے سندھ کے جدید اسپتالوں میں پورے پاکستان سے آنے والے مریضوں کو بلا تفریق علاج کی سہولت دی جا رہی ہے، حتیٰ کہ سائبر نائف جیسی جدید ترین سہولت بھی مفت مہیا کی جا رہی ہے۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ صحافیوں کے لیے بھی انقلابی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور کراچی کے بعد حیدرآباد سمیت سندھ کے دیگر شہروں میں بھی ایسے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کے حقوق کا تحفظ حکومتوں کی ذمہ داری ہے اور پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے جدوجہد کی ہے، چاہے صوبے میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہو یا نہ ہو۔
ٹرانسپورٹ کے شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ خواتین کے لیے پنک بسیں اور ماحول دوست الیکٹرک بسیں متعارف کروائی گئیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ خواتین صحافی جو ڈرائیونگ لائسنس جمع کرائیں گی، انہیں باقاعدہ تربیت دے کر دس دن کے اندر مفت اسکوٹیز فراہم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ ٹنڈوالہ یار، خیرپور اور شکارپور میں بھی پیپلز بس سروس شروع کی جا رہی ہے۔خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سے متعلق سوال پر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں اور پی ٹی آئی کے طرز سیاست، طالبان کے دفاتر کھولنے، عمران حکومت کے دور میں دہشت گردوں کی رہائی جیسے اقدامات پر شدید اعتراضات ہیں۔ انہوں نے سانحہ اے پی ایس کو تاریخ کا سیاہ ترین واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بنوں جیل ٹوٹنے جیسے واقعات نے بھی کئی سوالات کو جنم دیا، تاہم اس سب کے باوجود سندھ میں مہمان نوازی کا بھرپور خیال رکھا جائے گا۔
امن و امان سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سندھ میں مجموعی طور پر صورتحال بہتر ہے اور کچے کے علاقوں میں سندھ پولیس نے مؤثر کارروائیاں کی ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو سیاسی سرگرمیوں کا حق حاصل ہے، تاہم انتشار، نفرت انگیزی اور قانون شکنی کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔