صبا قمر کے خلاف متنازع بیانات، صحافی نے معافی مانگ لی

صبا قمر کے خلاف متنازع بیانات، صحافی نے معافی مانگ لی

اداکارہ صبا قمر کے خلاف متنازع اور توہین آمیز بیانات دینے پر صحافی نعیم حنیف نے عوامی سطح پر معذرت کرلی ہے۔

یہ معذرت اس وقت سامنے آئی جب صبا قمر کی جانب سے نعیم حنیف کو 10 کروڑ روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھجوایا گیا، جس میں ان کے کردار کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کو ہتک آمیز، جھوٹا اور صنفی تعصب پر مبنی قرار دیا گیا تھا۔قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ نعیم حنیف کے بیانات نہ صرف صبا قمر کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش تھے بلکہ اس سوچ کو بھی فروغ دیتے تھے کہ ایک عورت کی کامیابی اس کی محنت اور پیشہ ورانہ قابلیت کے بجائے کسی مرد سے وابستگی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ نوٹس میں کہا گیا کہ ایسے بیانات معاشرتی طور پر خطرناک ہیں اور خواتین کے خلاف منفی رجحانات کو تقویت دیتے ہیں۔اس معاملے پر ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے نعیم حنیف نے اعتراف کیا کہ صبا قمر کے بارے میں کیے گئے ان کے دعوے درست نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بیانات حقائق پر مبنی نہیں تھے اور وہ دل سے صبا قمر سے معذرت کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ان کے الفاظ سے اداکارہ کو ذہنی اذیت پہنچی۔

صبا قمر نے اس معذرت پر فوری ردِعمل دیتے ہوئے پوڈکاسٹ کا ایک کلپ اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کیا اور صرف ایک لفظ “Speechless” لکھا، جو اس پورے معاملے پر ان کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔یہ تنازع نومبر 2025 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب نعیم حنیف نے اپنے یوٹیوب چینل پر دعویٰ کیا تھا کہ صبا قمر ماضی میں لاہور کے علاقے والٹن میں ایک ایسے گھر میں رہائش پذیر رہی تھیں جو مبینہ طور پر کسی نامعلوم شخص نے فراہم کیا تھا۔ ان بیانات کے بعد سوشل میڈیا اور شوبز حلقوں میں شدید ردِعمل سامنے آیا۔صبا قمر نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ وہ کبھی والٹن میں مقیم نہیں رہیں اور ان کے خلاف دیے گئے بیانات سراسر جھوٹ اور بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے ان دعوؤں کو اپنی ساکھ پر حملہ اور کردار کشی قرار دیا تھا۔

تنازع کے دوران متعدد شوبز شخصیات صبا قمر کے حق میں سامنے آئیں۔ اداکارہ سحر خان سمیت دیگر فنکاروں نے سوشل میڈیا پر ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات کی مذمت کی اور خواتین کے خلاف کردار کشی کے رجحان پر سوالات اٹھائے۔صبا قمر نے اپنی انسٹاگرام پوسٹس میں نعیم حنیف کے ماضی کے متنازع بیانات کی مثالیں بھی شیئر کیں اور الزام لگایا کہ وہ توجہ، ویوز اور شہرت کے حصول کے لیے مختلف شخصیات کے خلاف بے بنیاد اور سنسنی خیز باتیں کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنی عزت اور ساکھ پر کسی بھی قسم کے حملے کو برداشت نہیں کریں گی۔