امریکا میں برڈ فلو سے پہلی انسانی موت، ماہرین کی تشویش بڑھ گئی

امریکا میں برڈ فلو سے پہلی انسانی موت، ماہرین کی تشویش بڑھ گئی

امریکی ریاست لوزیانا میں برڈ فلو سے پہلی انسانی موت کی تصدیق کی گئی ہے، جو امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے مطابق H5N1 وائرس کا پہلا سنگین کیس ہے۔

 مریض کی عمر 65 سال سے زائد تھی اور وہ دسمبر کے وسط سے اسپتال میں داخل تھا۔ حکام نے تصدیق کی کہ یہ شخص پرندوں یا دیگر جانوروں کے قریب رہنے کی وجہ سے برڈ فلو کا شکار ہوا، تاہم اس کیس میں انفیکشن کسی دوسرے شخص میں منتقل نہیں ہوا۔سی ڈی سی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ابھی تک انسانوں میں برڈ فلو کا پھیلاؤ عام نہیں ہے، لیکن وہ افراد جو پرندوں، مرغیوں یا دیگر مویشیوں کے قریب رہتے ہیں، ان کے لیے خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ حکام نے یہ بھی کہا کہ اس مریض کی موت کے بعد ابھی تک کسی دوسرے فرد میں وائرس کی منتقلی کا کوئی ثبوت نہیں ملا، اور موجودہ وقت میں عوامی صحت کو کوئی بڑا خطرہ لاحق نہیں ہے۔

یہ واقعہ سائنسدانوں کے لیے تشویش کا باعث ہے، کیونکہ اگر یہ وائرس تیزی سے پھیلنا شروع ہو جائے تو اس سے ایک مہلک وبائی مرض بھی جنم لے سکتا ہے۔ اس وائرس کی پھیلاؤ کے حوالے سے مزید تحقیق کی جارہی ہے تاکہ اس کی منتقلی کے طریقوں اور ممکنہ روک تھام کے اقدامات کا جائزہ لیا جا سکے۔