حماس کی یرغمالیوں کی فہرست اسرائیل کی جولائی کی فہرست سے مماثل: سعودی میڈیا

حماس کی یرغمالیوں کی فہرست اسرائیل کی جولائی کی فہرست سے مماثل: سعودی میڈیا

یہ خبر یرغمالیوں کے مسئلے پر اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری پیچیدہ اور حساس مذاکرات کی عکاسی کرتی ہے۔ اہم نکات درج ذیل ہیں:

یرغمالیوں کی فہرست اور اس کی تفصیلات:

سعودی اخبار "الشرق الاوسط" نے ایک فہرست شائع کی، جس میں ان 34 یرغمالیوں کے نام شامل ہیں جنہیں ممکنہ معاہدے کے تحت رہا کیا جا سکتا ہے۔یہ فہرست دراصل اسرائیل کی جانب سے جولائی 2024 میں پیش کردہ فہرست سے مطابقت رکھتی ہے، جس میں 40 یرغمالی شامل تھے۔ ان میں سے پانچ ہلاک ہو چکے ہیں اور ایک کو بازیاب کرایا جا چکا ہے۔
موجودہ فہرست میں شامل یرغمالیوں کی حالت کے بارے میں کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
حماس کا مؤقف:

حماس نے کہا ہے کہ فہرست میں شامل افراد کی موجودہ حالت کا تعین کرنے میں ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔حماس کی جانب سے اسرائیل کے مکمل فوجی انخلاء اور مستقل جنگ بندی کو یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کی شرط قرار دیا گیا ہے۔
اسرائیل کا مؤقف:

اسرائیلی حکام نے کہا کہ حماس نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سے یرغمالی زندہ ہیں۔اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے جنگ کے مکمل خاتمے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے کے اختتام پر جنگ دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔
معاہدے کی مشکلات:

حماس نے پہلے مرحلے میں خواتین، بوڑھوں، اور بیمار یرغمالیوں کی رہائی پر آمادگی ظاہر کی، لیکن فوجی عمر کے مردوں کو رہا کرنے سے انکار کیا۔اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات میں عدم پیش رفت کی وجہ سے یرغمالیوں کی رہائی کے امکانات اب بھی غیر یقینی ہیں۔
یرغمالیوں کے حالات:

فہرست میں دو بچے، 10 خواتین، 11 بوڑھے اور 50 سال سے کم عمر کے 11 مرد شامل ہیں۔حالیہ قتل اور بازیابی کے واقعات نے یرغمالیوں کے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
یہ معاملہ ایک انسانی المیے اور سیاسی تعطل کا مظہر ہے، جہاں دونوں فریقوں کے اپنے اپنے مطالبات اور شرائط ہیں۔ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے دونوں فریقوں کو لچک دکھانے کی ضرورت ہوگی، جو موجودہ حالات میں مشکل نظر آتا ہے۔