لاہور(کرائم رپورٹر)دو دہائیوں کے طویل انتظار کے بعد صوبائی دارالحکومت لاہور میں بسنت کو سخت حکومتی شرائط کے تحت محدود مدت کے لیے بحال کر دیا گیا ہے۔ بسنت کے موقع پر شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی جانب سے شہر بھر میں فول پروف سکیورٹی اور نگرانی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔بسنت فیسٹیول کے لیے قائم کیے گئے ‘‘سی ایم بسنت فیسٹیول کنٹرول روم’’ سے سیف سٹی کی خصوصی سرویلنس ٹیمیں 24 گھنٹے شہر بھر کی مانیٹرنگ کر رہی ہیں۔ لاہور کی چھتوں پر خصوصی پورٹیبل کیمرے نصب کیے گئے ہیں جبکہ چرخی اور خطرناک دھاتی ڈور کے استعمال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔سیف سٹی اتھارٹی لاہور پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر ہاٹ اسپاٹ علاقوں، اہم فلائی اوورز اور مرکزی شاہراہوں کی خصوصی نگرانی کر رہی ہے۔ بلند عمارتوں اور ممنوعہ علاقوں میں سیف سٹی ڈرونز کے ذریعے فضائی نگرانی بھی جاری ہے تاکہ غیر قانونی بسنت سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی اور فوری کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔ترجمان سیف سٹی کے مطابق جدید اے آئی بیسڈ کیمروں کے ذریعے موٹر سائیکلوں پر حفاظتی راڈز کی عدم موجودگی کی بھی نشاندہی کی جا رہی ہے اور خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔کنٹرول روم سے حکومتی ایس او پیز پر دن رات براہِ راست نگرانی کی جا رہی ہے جبکہ شہر کے اہم مقامات، حساس علاقوں، مرکزی شاہراہوں اور داخلی و خارجی راستوں کو سیف سٹی کیمروں کے ذریعے مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ بسنت کے دوران ہوائی فائرنگ یا اسلحہ کی نمائش کی صورت میں فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ترجمان سیف سٹی نے واضح کیا کہ صوبائی دارالحکومت میں بسنت کی اجازت سخت حکومتی شرائط اور قوانین کے تحت صرف 6، 7 اور 8 فروری تک محدود ہے