کراچی:وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کراچی میں بڑھتے ہوئے ٹریفک جام اور حادثات کے پیش نظر سندھ حکومت کے لیے سخت اقدامات لینا ناگزیر ہوگیا ہے۔
یہ بات انہوں نے سپریم کونسل آف آل پاکستان ٹرانسپورٹرز کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ وفد کی قیادت سپریم کونسل کے سینئر وائس چیئرمین ملک ریاض اعوان نے کی، جبکہ دیگر ارکان میں حاجی امان اللہ، حاجی محمد شفیق، لالہ افضل، راجہ نوید، حاجی محمد عاشق، ارشد گجر، سردار محمد اشرف، محمد بشیر اور ممتاز اعوان شامل تھے۔
کراچی میں تجاوزات کے خلاف مہم کا آغاز
سعید غنی نے کہا کہ کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی روک تھام کے لیے سندھ حکومت نے ایک حکمت عملی مرتب کرلی ہے۔ جلد ہی تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر شہر بھر میں بلا تفریق تجاوزات کے خلاف مہم کا آغاز کیا جائے گا۔انہوں نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت ٹرانسپورٹ برادری کے تمام جائز مطالبات پورے کرے گی، مگر عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد بھی کرایا جائے گا۔
ہیوی ٹرانسپورٹ کے داخلے پر پابندی کی وضاحت
وزیر بلدیات نے وضاحت کی کہ شہر میں ہیوی ٹرانسپورٹ اور بڑی بسوں کے داخلے پر پابندی ٹریفک حادثات میں ہوشربا اضافے اور مستقل جام کی صورتحال کے باعث لگائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ لاکھوں افراد ٹریفک جام کے باعث متاثر ہو رہے ہیں، اس لیے ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے کے لیے یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔
ٹرانسپورٹرز کے تحفظات پر حکومتی موقف
وفد نے صوبائی وزیر کو بسوں کے ٹرمینل کی منتقلی کے باوجود بکنگ آفسز کی بندش کے احکامات اور دیگر مسائل سے آگاہ کیا۔ اس پر سعید غنی نے وضاحت کی کہ یہ اقدامات ٹرانسپورٹرز کے خلاف نہیں بلکہ شہر میں ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جو بکنگ دفاتر دکانوں کے اندر قائم ہیں، ان کے حوالے سے وزیر ٹرانسپورٹ سے ان کی پاکستان واپسی پر بات کی جائے گی تاکہ اس مسئلے کا مناسب حل نکالا جا سکے۔