امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (آئی سی سی) کے ان اہلکاروں پر اقتصادی اور سفری پابندیاں عائد کی گئی ہیں جو امریکی اور اسرائیلی شہریوں کے خلاف تحقیقات میں ملوث ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق، یہ پابندیاں ان افراد کے اثاثے منجمد کرنے اور ان کے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کرتی ہیں۔ امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف جاری کردہ وارنٹ گرفتاری اور دیگر تحقیقات بے بنیاد ہیں اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف غیر منصفانہ کارروائیاں ہیں۔ان پابندیوں کے جواب میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کی مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی انصاف کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ آئی سی سی نے تاحال اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل آئی سی سی کے رکن ممالک نہیں ہیں اور اس کی قانونی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے۔ اس سے قبل 2020 میں بھی ٹرمپ انتظامیہ نے آئی سی سی کے بعض اہلکاروں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔