نجکاری کی نگرانی کر رہا ہوں‘عوامی وسائل کا نقصان نہیں ہونے دوں گا شہبازشریف

 حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں، کاروبار اور سرمایہ کاری کیلئے پالیسی اقدمات اور سہولت فراہم کرنا ہے، ‘ بروقت ضروری اصلاحات سے ہی  معیشت کی بہتری کی جانب تیزی سے گامزن ہیں   
 پاکستان کی ترقی کے لئے سب کو مل کر کام کرنا ہے‘متعین کردہ اداروں کی نجکاری کے عمل کو شفافیت پر سمجھوتہ کئے بغیر تیز کیا جائے :  سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل اور نگرانی  بارے  اجلاس میں گفتگو

 اسلام آباد(آئی این پی )وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے  نجکاری کے عمل کی خود نگرانی کر رہا ہوں، کسی قسم کا تعطل قبول نہیں کروں گا، عوامی وسائل کا نقصان کرنیوالے اداروں میں مزید زیاں کی اجازت نہیں دوں گا،حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں، کاروبار و سرمایہ کاری کے لیے پالیسی اقدمات اور سہولت فراہم کرنا ہے۔وزیر اعظم کی زیر صدارت  جمعرات کو سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل اور اس کی نگرانی کے حوالے سے بنائے گئے ٹاسک مینجمنٹ سسٹم پر جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ ٹاسک مینجمنٹ ڈیش بورڈ کا جائزہ لیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہے۔ پاکستانی عوام کے قیمتی وسائل کا نقصان کرنے والے اداروں میں مزید زیاں کی اجازت نہیں دوں گا۔انہوں نے کہا کہ ملکی اداروں کی نجکاری حکومت کے اڑان پاکستان اقدام کا حصہ ہے۔ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں، کاروبار و سرمایہ کاری کے لیے پالیسی اقدمات اور سہولت فراہم کرنا ہے۔ بروقت ضروری اصلاحات ہی سے معیشت کی بہتری کی جانب تیزی سے گامزن ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ متعین کردہ اداروں کی نجکاری کے عمل کو شفافیت پر سمجھوتا کیے بغیر تیز کیا جائے۔ نجکاری کے عمل میں قانونی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اچھی شہرت کے وکلا کی خدمات لی جائیں۔ نجکاری کے عمل کی خود نگرانی کر رہا ہوں، کسی قسم کا تعطل قبول نہیں کروں گا۔اجلاس میں وزیرِ اعظم کو نجکاری کے حوالے بنائے گئے ٹاسک مینجمنٹ سسٹم کا جائزہ پیش کیا گیا اور مختلف اداروں کی نجکاری کی معینہ مدت کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کے اداروں کی نجکاری کو 3مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 10 ادارے، دوسرے مرحلے میں 13 جب کہ تیسرے مرحلے میں باقی ماندہ اداروں کی نجکاری یقینی بنائی جائے گی۔