انگلینڈ کے وکٹ کیپر بیٹر جوز بٹلر کے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی بننے کے بعد ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ کرس گیل سمیت کئی سابق کرکٹرز اور شائقین نے سوال اٹھایا کہ آیا دی ہنڈریڈ میں بنائے گئے رنز کو ٹی ٹوئنٹی ریکارڈ کا حصہ شمار کیا جانا چاہیے یا نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ 2021 میں دی ہنڈریڈ کے آغاز سے ہی اس ٹورنامنٹ کے تمام اعداد و شمار کو باضابطہ طور پر ٹی ٹوئنٹی ریکارڈ میں شامل کیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس فارمیٹ میں ہر اوور پانچ گیندوں پر مشتمل ہوتا ہے، تاہم ہر ٹیم مجموعی طور پر 100 گیندیں کھیلتی ہے، جو روایتی ٹی ٹوئنٹی کی 120 گیندوں سے مختلف ہے۔ اس کے باوجود آئی سی سی نے اسے آفیشل ٹی ٹوئنٹی ریکارڈ کا حصہ قرار دیا ہوا ہے۔کرکٹ شماریات کے ماہر ڈیوڈ کینڈکس کے مطابق یہ فیصلہ آئی سی سی، انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ اور کرکٹ شماریاتی اداروں کی باہمی مشاورت سے کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی دی ہنڈریڈ کے اعداد و شمار الگ رکھنا چاہے تو ایسا کیا جا سکتا ہے، مگر سرکاری ریکارڈ میں انہیں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ہی کا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔