ایٹم کا چراغ اور خطرہ کا سایہ

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
یہ ایک ایسامرکزہے جہاں توانائی کے چراغ کے ساتھ قومی حکمتِ عملی،عالمی تعلقات اورمستقبل کے امکانات بھی روشن ہوتے ہیں۔اوریہی وجہ ہے کہ اس کی حفاظت بھی محض ایک تکنیکی ضرورت نہیں بلکہ ایک وسیع ترقومی ذمہ داری ہے۔انسانی تہذیب کے سفرمیں توانائی ہمیشہ ترقی کی بنیادرہی ہے،اورعصرِحاضر میں جوہری توانائی اس سفرکے ایک ایسے مرحلے کی علامت بن چکی ہے جہاں امکانات کی روشنی اورذمہ داری کے تقاضے ایک ساتھ موجودہیں۔انڈیا کی جانب سے جوہری توانائی کی پیداوار میں غیرمعمولی اضافے کا منصوبہ اسی مستقبل شناس حکمتِ عملی کی عکاسی کرتاہے،جس کے تحت2047تک جوہری توانائی سے 100گیگاواٹ بجلی پیداکرنے کاہدف مقررکیاگیاہے۔یہ منصوبہ صنعتی ترقی،معاشی استحکام اورتوانائی کی خودکفالت کی ایک روشن تصویرپیش کرتاہے،مگراس روشنی کے ساتھ تحفظ کے گہرے سوالات بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔
اے اہلِ بصیرت!ہر بڑی کامیابی اپنے دامن میں ایک بڑی ذمہ داری بھی لیکر آتی ہے۔توانائی کے یہ نئے چراغ اگرچہ ترقی کے افق کو روشن کرسکتے ہیں،مگر ان کی حفاظت کیلئے بھی اسی قدرمضبوط حصاردرکارہیں۔تاریخ کاسبق یہی ہے کہ طاقتورامکانات ہمیشہ حکمت اوراحتیاط کے ساتھ ہی انسان کیلئے نعمت ثابت ہوتے ہیں۔اگرتدبرکادامن ہاتھ سے چھوٹ جائے تووہی قوت جوتعمیرکاذریعہ بنتی ہے، کسی وقت دنیاکیلئے خطرے کی صورت بھی اختیارکرسکتی ہے۔جوہری توانائی کاپھیلامحض ری ایکٹروں کی تعدادبڑھانے یابجلی کی پیداوار میں اضافہ کرنے کامعاملہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیرذمہ داری کانام ہے۔ہرنئی تنصیب،ہرنیاتکنیکی نظام اورہرنیامنصوبہ اپنے ساتھ ایک بنیادی سوال لیکرآتاہے:کیاہم اس وسعت کو اسی درجے کے تحفظ،شفافیت اورحفاظتی شعورکے ساتھ سنبھالنے کیلئے تیارہیں؟
یہی وہ مقام ہے جہاں ترقی کاخواب اورخطرے کااندیشہ ایک دوسرے کے سامنے آکھڑے ہوتے ہیں۔ایک طرف توانائی کی بڑھتی ہوئی ضرورت،صنعتی ترقی کی رفتاراورقومی
خود مختاری کے تقاضے ہیں،تودوسری طرف سکیورٹی،معلوماتی تحفظ،تکنیکی نگرانی اور ادارہ جاتی ذمہ داری کے سوالات ہیں۔اصل کامیابی صرف یہ نہیں کہ توانائی کے نئے ذرائع پیدا کیے جائیں،بلکہ یہ بھی ہے کہ ان ذرائع کومحفوظ،قابلِ اعتماداورپائیداربنایاجائے۔جوہری توانائی کامستقبل دراصل روشنی کی تلاش کاسفرہے،مگراس سفرمیں اندھیروں سے آگاہ رہنابھی ضروری ہے۔کیونکہ روشنی کی قدراسی وقت قائم رہتی ہے جب اسے محفوظ رکھنے کاشعورموجودہو۔ایک چراغ جتنازیادہ روشن ہو،اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اتنی ہی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔پس،انڈیاکے جوہری توانائی کے توسیعی منصوبے کوصرف ایک صنعتی ہدف کے طورپرنہیں بلکہ ایک قومی عہدکے طورپردیکھناہوگا۔یہ عہدصرف زیادہ توانائی پیدا کرنے کانہیں بلکہ زیادہ ذمہ داری،زیادہ شفافیت اورزیادہ حفاظتی شعورپیدا کرنے کابھی ہے۔کیونکہ مستقبل کااصل سوال یہ نہیں کہ انسان ایٹم کی قوت کوکس حدتک استعمال کرسکتا ہے،بلکہ یہ ہے کہ وہ اس قوت کوکس قدر حکمت، احتیاط اورذمہ داری کیساتھ سنبھال سکتاہے۔ یہی وہ معیارہوگاجوجوہری توانائی کومحض طاقت کاذریعہ نہیں بلکہ پائیدارترقی کا چراغ بناسکے گا۔
اے زمانے کے معمارو!اے علم وحکمت کے مسافرو!کوڈن کولم کایہ واقعہ محض ایک ڈیٹالیک،ایک تکنیکی لغزش یاایک حفاظتی کمزوری کاقصہ نہیں،بلکہ یہ ہمارے عہدکے سامنے رکھاہو ا ایک آئینہ ہے ، جس میں ہم اپنی عظمتوں کے ساتھ اپنی کمزوریوں کوبھی دیکھ سکتے ہیں،اپنی فتوحات کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کابھی محاسبہ کرسکتے ہیں،اوراپنی ترقی کی چمکتی ہوئی سطح کے نیچے چھپے ہوئے سوالات کی دھڑکن بھی سن سکتے ہیں۔یہ واقعہ ہمیں یہ یاد دلاتاہے کہ تہذیبیں صرف رفتارسے عظیم نہیں بنتیں،بلکہ سمت کی درستگی سے زندہ رہتی ہیں۔ترقی اگرسفر کی رفتارہے توتحفظ اس کاراستہ ہے،اگرعلم چراغ ہے توحکمت اس کی لوکوسنبھالنے والاہاتھ ہے،اوراگر طاقت ایک عظیم خزانہ ہے توذمہ داری اس خزانے کی حفاظت کرنے والی امانت ہے۔کیونکہ رفتاراگرسمت سے محروم ہوجائے تووہ منزل تک نہیں پہنچاتی،بلکہ کبھی کبھی انسان کوایسے راستوں پرلے جاتی ہے جہاں واپسی دشوارہوجاتی ہے۔
کوڈن کولم کامعاملہ دراصل ایک گہراتہذیبی سوال ہے ،کیاہم اپنی ترقی کی حفاظت کیلئے بھی اتنے ہی سنجیدہ ہیں جتنے اس کے حصول کیلئے؟کیاہم نے روشنی کے چراغ توجلالیے ہیں، مگران چراغوں کوہوا کے بے رحم جھونکوں سے بچانے کاانتظام بھی کیاہے؟کیاہم نے طاقت کے دروازے توکھول لیے ہیں،مگران دروازوں کی حفاظت کیلئے حکمت کے پہرے داربھی مقررکیے ہیں؟
اے اہلِ فکر!تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ بڑی تہذیبیں صرف بیرونی دشمنوں سے نہیں ٹوٹتیں،کبھی کبھی وہ اپنی غفلت کے بوجھ تلے بھی کمزورپڑجاتی ہیں۔ایک چھوٹی سی دراڑ،اگر وقت پرمحسوس نہ کی جائے،تومضبوط ترین دیواروں کوبھی کمزورکرسکتی ہے۔ایک معمولی سمجھی جانے والی تفصیل،اگراپنی اہمیت کے ساتھ نہ سمجھی جائے،تو کسی بڑے خطرے کاراستہ بن سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ کوڈن کولم کاواقعہ ہمیں صرف خوف کی دعوت ہی نہیں دیتابلکہ شعورکی بھی دعوت دیتاہے۔یہ ہمیں رک کرسوچنے،اپنے نظاموں کا جائزہ لینے،اپنی ترجیحات کوپرکھنے اوریہ سوال کرنے پرمجبورکرتاہے کہ کیاہماری ترقی واقعی محفوظ،متوازن اورپائیدارہے؟
اے اربابِ دانش!اس آئینے میں دیکھنے کے دوراستے ہیں۔ایک یہ کہ ہم اسے محض ایک گزرجانے والاحادثہ سمجھ کرنظراندازکردیں، وقت کے شورمیں اس کی آوازکودبادیں، اور پھرکسی نئے خطرے کے انتظارمیں رہیں۔دوسراراستہ یہ ہے کہ ہم اسے ایک بیداری کی صدا سمجھیںایک ایسی صداجوہمیں بتاتی ہے کہ مستقبل انہی قوموں کاہوتاہے جواپنی طاقت کے ساتھ اپنی کمزوریوں کابھی اعتراف کرنے کاحوصلہ رکھتی ہیں۔کیونکہ اصل عظمت صرف یہ نہیں کہ انسان ایٹم کومسخرکرلے،ڈیجیٹل دنیاکوفتح کرلے،یاتوانائی کے نئے افق دریافت کرلے؛اصل عظمت یہ ہے کہ وہ اپنی تخلیق کردہ قوتوں کوحکمت،بصیرت اورذمہ داری کے ساتھ سنبھال سکے۔
پس، یہ لمحہ ہمیں پکاررہاہے۔یہ وقت ہے کہ ہم ترقی کے سفرمیں احتیاط کواپناہم سفربنائیں،علم کے ساتھ حکمت کو،طاقت کے ساتھ ذمہ داری کو،اوررفتارکے ساتھ سمت کوجوڑیں۔ کیونکہ مستقبل ان ہاتھوں میں محفوظ ہوگاجو صرف تعمیر کرنانہیں جانتے بلکہ اپنی تعمیرات کی حفاظت کرنابھی جانتے ہیں۔یقینامودی حکومت ان تمام معاملات میں بری طرح نہ صرف ناکام ہوچکی ہے بلکہ عالمی امن کیلئے ایک سنگین خطرہ بھی بن چکی ہے۔
یادرکھو!چراغ جتنازیادہ روشن ہو،اس کی حفاظت کی ضرورت بھی اتنی ہی بڑھ جاتی ہے۔سمندرجتناوسیع ہو،جہازکواتنی ہی مضبوط سمت درکارہوتیہے۔اورتہذیب جتنی بلند ہو،اسے اتنی ہی گہری بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے۔
پس اے اہلِ فکر ونظر!سنبھل جاؤ،کیونکہ یہ زمانہ صرف علم کانہیں،حکمت کا زمانہ ہے؛صرف دریافتوں کانہیں،ذمہ داریوں کازمانہ ہے۔ اورحکمت وہ چراغ ہے جواندھیروں میں راستہ دکھاتاہے،وہ میزان ہے جوطاقت کوتوازن عطاکرتاہے،اوروہ بصیرت ہے جو انسان کو ترقی کے کنارے سے تباہی کے گڑھے تک جانے سے روک لیتی ہے۔
کوڈن کولم کاواقعہ شاید وقت کے صفحات میں ایک خبربن کرگزرجائے،مگر اس کاسبق ہمیشہ زندہ رہے گاکہ ترقی کی حقیقی فتح صرف آگے بڑھنے میں نہیں،بلکہ صحیح سمت میں آگے بڑھنے میں ہے۔اس لئے اب اقوام عالم کافرض ہے کہ وہ اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کی حفاظت کیلئے مودی حکومت کے اس غیرذمہ دارانہ فعل کا کڑااحتساب کرے۔