ایٹم کا چراغ اور خطرہ کا سایہ

سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
کنٹرول روم کے نقشے اوردیگرتکنیکی تفصیلات شامل ہیںتویہ محض ایک عددی اطلاع نہ رہی بلکہ ایک ایسے حقیقت نامے میں تبدیل ہوگئی جس نے جدیددنیاکے تحفظاتی تصورات کوازسرِنوسوچنے پرمجبورکردیا۔یہ واقعہ اپنے اندرایک گہراپیغام سموئے ہوئے ہے:کہ معلومات کاافشا اب صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایساعمل ہے جوعالمی سطح پراثراندازہوسکتاہے۔
ڈارک و یب یہ نام محض ایک تکنیکی اصطلاح نہیں بلکہ جدیدتہذیب کے اس سایہ دارگوشے کی علامت ہے جہاں پوشیدگی،بے نامی اورغیرمرئی روابط ایک ایسی منڈی کوجنم دیتے ہیں جس میں اشیا نہیں بلکہ معلومات کالین دین ہوتاہے۔یہ وہ بازارہے جوکسی شہرکی گلیوں میں نہیں بلکہ ڈیجیٹل خلاکی تاریکیوں میں آبادہے؛جہاں نہ ریاستی سرحدیں معنی رکھتی ہیں اورنہ ہی روایتی قوانین اپنی پوری قوت کے ساتھ نافذہوپاتے ہیں۔یہاں ایک فائل کاتبادلہ بھی کسی بڑی تبدیلی کاپیش خیمہ بن سکتاہے۔
اے اہلِ بصیرت!یہ وہ عہدہے جس میں جنگوں کی نوعیت بدل چکی ہے۔اب توپ وتفنگ کی گھن گرج کے بجائے خاموشی سے بہنے والے ڈیٹاکے دھارے فیصلہ کن کردارادا کرتے ہیں۔یہ ایک ایسامیدان ہے جہاں گولی کی آوازسنائی نہیں دیتی مگراس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے اوردیرپاہوتے ہیں۔ایک نقشہ،ایک خاکہ،یاایک تکنیکی تفصیلیہ سب مل کرکسی ریاست کے حفاظتی توازن کومتاثرکرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔یہ واقعہ ہمیں اس حقیقت سے بھی آگاہ کرتاہے کہ معلومات کی حفاظت اب محض فزیکل حدود،دیواروں اورحفاظتی حصاروں تک محدود نہیں رہی۔ ڈیجیٹل دنیامیں سرحدیں غیرمرئی ہیں اورخطرات بے آواز۔یہاں نہ کوئی دروازہ ٹوٹتاہے اورنہ کوئی قلعہ فتح ہوتادکھائی دیتا ہے،مگرمعلومات کابہاؤ خاموشی سے نظاموں کی بنیادوں تک رسائی حاصل کرلیتاہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں معمولی سی کوتاہی بھی ایک بڑے بحران کی تمہیدبن سکتی ہے۔
ڈارک ویب پراس نوع کی معلومات کی موجودگی دراصل ایک خاموش خطرے کی علامت ہے ایساخطرہ جوبظاہرنظرنہیں آتامگراپنی اثرانگیزی میں کسی طوفان سے کم نہیں۔یہ ہمیں یاددلاتاہے کہ جدید دنیامیں تحفظ کامفہوم بدل چکاہے:اب حفاظت صرف زمین،فضایا سمندرکی نہیں بلکہ ڈیٹا،معلومات اورسائبرخلا کی بھی کرنی ہے۔پس،کوڈن کولم کے اس تناظر میں ڈارک ویب کاکردارایک تنبیہ بن کرسامنے آتاہیایک ایسی تنبیہ جوہمیں بتاتی ہے کہ اگرہم نے ڈیجیٹل تحفظ کواپنی ریاستی حکمت عملی کابنیادی ستون نہ بنایاتویہ غیرمرئی بازار ہماری سب سے بڑی کمزوری بن سکتاہے۔یہی وہ ادراک ہے جوجدیدعہدکی سکیورٹی فکرکونئی سمت عطاکرتاہے،اورہمیں اس حقیقت کے قریب لاتاہے کہ آج کی اصل جنگ خاموش ہے، مگراس کے نتائج نہایت گرج دارہوسکتے ہیں۔
کوڈن کولم سے متعلق افشاشدہ معلومات کے معاملے میں ایک نہایت اہم پہلویہ سامنے آتاہے کہ مبینہ طورپریہ ڈیٹابراہِ راست جوہری ادارے کے مرکزی نظام سے نہیں بلکہ ایک معاون صنعتی ادارے،یعنی ریلائنس انفراسٹرکچرکے سرورسے حاصل کیاگیا۔یہی نکتہ اس واقعے کی معنویت اورسنگینی میں ایک نئی جہت کااضافہ کرتاہے،کیونکہ یہ واضح کرتاہے کہ جدیددورمیں خطرات ہمیشہ مرکزی دروازے سے داخل نہیں ہوتے؛بعض اوقات وہ انہی راستوں سے اپناسفرشروع کرتے ہیں جنہیں ہم محض معاون یاثانوی سمجھ کرنظراندازکر دیتے ہیں۔
یہ حقیقت دراصل موجودہ صنعتی نظام کی اس پیچیدہ ساخت کی طرف اشارہ کرتی ہے جہاں بڑے منصوبے صرف ایک ادارے کے ذریعے نہیں بلکہ متعددمعاون اداروں،تکنیکی شراکت داروں اورباہم مربوط نظاموں کے ذریعے تشکیل پاتے ہیں۔یہ باہمی انحصاربلاشبہ ترقی اور تعاون کی بنیادہے،مگراسی کے اندرکمزوری کے امکانات بھی پوشیدہ ہوتے ہیں ۔کیونکہ ایک وسیع اورپیچیدہ نظام میں کسی ایک حصے کی کمزوری پورے نظام کے استحکام کومتاثر کرسکتی ہے۔
اے اہلِ فکر!یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں تحفظ کیروایتی تصورات سے آگے بڑھ کرسوچناہوگا۔مضبوط ترین قلعے بھی اس وقت خطرے میں آجاتے ہیں جب ان کے بیرونی حصار میں دراڑیں پیداہوجائیں۔تاریخ گواہ ہے کہ کئی عظیم قلعے اپنی مضبوط دیواروں کے باوجودان کمزورراستوں سے شکست کھاگئے جنہیں معمولی سمجھاگیاتھا۔اسی طرح جدیدصنعتی و جوہری نظام بھی صرف اپنے مرکزی حصے کی مضبوطی سے محفوظ نہیں رہ سکتے،بلکہ ان تمام حلقوں کی مضبوطی کے محتاج ہوتے ہیں جوکسی نہ کسی صورت ان سے جڑے ہوئے ہیں۔
یہ واقعہ ہمیں ایک بنیادی حقیقت کی طرف متوجہ کرتاہے کہ سکیورٹی ایک زنجیرکی مانندہے،اورزنجیر کی طاقت اس کی سب سے کمزورکڑی کے برابرہوتی ہے۔اگرمرکزی جوہری تنصیب اپنی جگہ مضبوط بھی ہو،مگراس سے منسلک معاون اداروں کے حفاظتی انتظامات میں خامی موجودہو،توخطرے کاامکان پھربھی باقی رہتاہے۔یہی وہ نکتہ ہے جوجدیدتحفظاتی حکمت عملی کومحض داخلی دفاع سے نکال کرایک جامع اورہمہ گیرنظام کی ضرورت کی طرف لیجاتاہے۔
یہاں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ معلومات کہاں سے حاصل کی گئیں،بلکہ یہ بھی ہے کہ ایک حساس منصوبے کے گردقائم پورے ماحولیاتی نظام کی حفاظت کس قدرمربوط ہے۔کیونکہ آج کے دورمیں خطرہ صرف اس مقام پرموجودنہیں ہوتاجہاں اصل اثاثہ رکھاجاتا ہے،بلکہ ان تمام راستوں میں بھی موجودہوسکتاہے جواس اثاثے تک کسی نہ کسی صورت رسائی رکھتے ہیں۔پس،ڈیٹاکے ماخذکایہ پہلوایک گہری تنبیہ بن کرسامنے آتاہے کہ تحفظ کادائرہ اب کسی ایک ادارے یاایک عمارت تک محدودنہیں رہا۔یہ پورے نظام،اس کے تمام معاونین اورہراس نقطے کی حفاظت کاتقاضاکرتاہے جہاں سے معلومات کابہاؤممکن ہوسکتاہے۔جدیدعہد کاسبق یہی ہے کہ قلعے صرف اپنی فصیلوں سے محفوظ نہیں رہتے،بلکہ ان راستوں کی نگرانی سے محفوظ رہتے ہیں جوان تک پہنچتے ہیں۔
جدیدصنعتی تہذیب کاایک نمایاں وصف یہ ہے کہ بڑے منصوبے اب کسی ایک ادارے یامحدوددائرے میں مکمل نہیں ہوتے،بلکہ متعدد اداروں،تکنیکی ماہرین،معاون کمپنیوں اورنجی شراکت داروں کے باہمی تعاون سے پایہ تکمیل تک پہنچتے ہیں۔کوڈن کولم جوہری پاور پلانٹ کے تیسرے اورچوتھے یونٹس کی تعمیرمیں بھی نجی شعبے کی شمولیت اسی جدیدصنعتی طرزِعمل کی عکاسی کرتی ہے۔مگر جہاں یہ نظام ترقی کی رفتارکوبڑھاتاہے،وہیں اس کے اندرایک نہایت حساس سوال بھی پوشیدہ رہتاہے:جب ایک حساس منصوبہ کئی ہاتھوں میں تقسیم ہو جائے تومعلومات کے تحفظ اورذمہ داری کے معیارکوکس طرح یقینی بنایاجائے؟
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ جدیدمعیشت اورصنعتی ترقی میں نجی اداروں کاکردارناگزیرہوچکاہے۔ان کی فنی مہارت،انتظامی صلاحیت اورعملی رفتاربڑے منصوبوں کی تکمیل میں اہم کرداراداکرتی ہے۔مگرجب یہی شمولیت ایسے شعبوں میں ہوجہاں قومی سلامتی،حساس معلومات اورطویل المدتی مفادات وابستہ ہوں،تومعاملہ محض کارکردگی اورتکمیلِ منصوبہ تک محدودنہیں رہتابلکہ اعتماد،امانت داری اورحفاظتی شعورکامسئلہ بھی بن جاتاہے۔
اے اہلِ بصیرت!ترقی کاپہیہ بلاشبہ شراکت داری سے چلتاہے،مگرہرشراکت اپنے ساتھ ایک ذمہ داری بھی لاتی ہے۔حساس منصوبے صرف اینٹ،پتھر،مشینری اورنقشوں سے تشکیل نہیں پاتے بلکہ اعتمادکی بنیادوں پربھی قائم ہوتے ہیں۔اگراس اعتمادکے حصارمیں کمزوری پیداہوجائے توجدیدترین نظام بھی خطرے کی زدمیں آسکتاہے۔ٹھیکہ داری نظام کی بنیادی حقیقت یہی ہے کہ جہاں متعدداداروں کی شمولیت کام کوآسان،تیزاورمؤثربناتی ہے،وہیں معلومات کے پھیلا ؤکے امکانات میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ہرنیاشریک جہاں مہارت اورسہولت کاایک نیادروازہ کھولتاہے،وہیں وہ حفاظتی ذمہ داری کاایک نیاباب بھی شامل کردیتاہے۔یوں ایک بڑے منصوبے کی سکیورٹی صرف مرکزی ادارے کی ذمہ داری نہیں رہتی بلکہ اس سے وابستہ ہر فرد،ہرکمپنی اورہرنظام کامشترکہ فرض بن جاتی ہے۔
یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ نجی اداروں کوحساس منصوبوں میں شامل کیاجائے یانہیں،کیونکہ جدیددنیامیں اس شمولیت سے مکمل گریز ممکن نہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ کیاان اداروں کو وہ حفاظتی معیار،تربیت اورذمہ داری کاشعورفراہم کیاگیاہے جوایسے منصوبوں کے تقاضوں کے مطابق ہو؟کیااعتمادکے ساتھ نگرانی کانظام بھی قائم کیاگیاہے؟یاکہیں ایساتونہیں کہ ترقی کی رفتارنے احتیاط کے تقاضوں کو پیچھے چھوڑدیاہے؟
یہ سوال صرف کوڈن کولم کے واقعے تک محدودنہیں بلکہ آنے والے وقتوں کی صنعتی اورریاستی پالیسیوں کیلئے ایک بنیادی سوال کی حیثیت رکھتاہے۔کیونکہ مستقبل کے بڑے منصوبے لازمامشترکہ تعاون سے وجودمیں آئیں گے،اورایسے میں کامیابی کااصل معیارصرف تعمیرکی رفتارنہیں بلکہ تحفظ کی مضبوطی بھی ہوگا۔پس،ٹھیکہ داری نظام جدیدصنعتی دنیاکی ضرورت ضرورہے،مگراس ضرورت کوذمہ داری کے شعور سے ہم آہنگ کرناناگزیرہے۔(جاری ہے)