سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
یہ داستان محض سیاست کے خشک اوربے روح ابواب میں سے ایک باب نہیں،بلکہ یہ انسانیت کے سینے پرلکھی ہوئی وہ دردناک تحریر ہے جس کے ہرلفظ سے بارودکی بواورہرسطرسے آہوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔یہ معاملہ دوریاستوں کے درمیان کشمکش کانہیں، بلکہ اس عالمی ضمیرکاامتحان ہے جوصدیوں کی تہذیب،مذہب،اخلاق اورانسان دوستی کے دعوؤں کے باوجودآج بھی طاقت کے بت کے سامنے سجدہ ریزدکھائی دیتاہے۔
عصرِحاضرکی دنیابظاہرترقی،علم اورٹیکنالوجی کے بامِ عروج پرکھڑی ہے،مگرباطن میں وہی قدیم درندگی،وہی ہوسِ اقتداراوروہی خون آشام مفادات آج بھی زندہ ہیں۔طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے وہ عناصر،جواپنے مفادات کی شمع کوروشن رکھنے کیلئے پوری انسانیت کواندھیروں میں دھکیلنے سے بھی گریزنہیں کرتے،دراصل اسی المیے کے معمارہیں۔ یہ وہ قوتیں ہیں جوامن کے نام پرجنگ کی تجارت کرتی ہیں،اورانسانیت کے نام پرانسانوں کے لہوسے اپنے ایوانوں کی بنیادیں مضبوط کرتی ہیں۔یہی وہ پس منظرہے جس میں یہ تنازع ایک معمولی سفارتی اختلاف سے بڑھ کرایک عالمی سانحہ بن جاتاہے۔یہاں ہرفیصلہ صرف سیاسی نہیں،بلکہ انسانی تقدیروں کافیصلہ بن جاتا ہے۔ایک طرف طاقت کاغرور ہے،تودوسری جانب بقاکی جدوجہد؛ایک طرف مفادات کا اندھاکھیل ہے،تو دوسری جانب انسانیت کی سسکتی ہوئی آواز۔
قارئین!اس تحریرکو محض ایک رپورٹ نہ سمجھاجائے،بلکہ اسے ایک آئینہ تصورکیاجائے جس میں ہم اپنے عہدکی سچائیوں کوبے نقاب ہوتے دیکھ سکتے ہیں۔یہ وہ لمحہ فکریہ ہے جہاں ہمیں یہ طے کرناہے کہ آیاہم جنگ کے اس اندھے طوفان کاحصہ بنیں گے یاامن کی اس شمع کوروشن کریں گے جواندھیروں کے سینے کوچیرکرروشنی کی نویددیتی ہے۔کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی انسان نے تلوار کودلیل پرترجیح دی،تواس کے ہاتھ میں فتح نہیں بلکہ اپنے ہی وجودکی شکست آئی۔ یہ قضیہ محض سفارتی نزاکتوں کابیان نہیں،بلکہ عہدِ حاضرکی بین الاقوامی سیاست کے اس پیچیدہ شطرنج کانقشہ ہے جس میں ہرمہرہ اپنی چال سے زیادہ اپنے مفہوم کاحامل ہے۔
یہ معاملہ محض دوریاستوں کے درمیان اختلافات کانہیں اورنہ یہ قضیہ محض سفارتی نزاکتوں کابیان ہے،بلکہ عصرِحاضرکی عالمی سیاست کے اس پیچیدہ شطرنج کانقشہ اوراس پیچیدہ باب کاعنوان ہے جس میں ہرمہرہ اپنی چال سے زیادہ اپنے مفہوم کاحامل ہے۔جس میں طاقت،نظریہ،مفاداورخوف چاروں عناصرایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہوچکے ہیں کہ ان کی تفریق محال نظرآتی ہے۔ اسی پس منظر میں ایک مفصل،اورفکری گہرائی سے مزین رپورٹ،اصل ترتیب کے ساتھ،پیش کی جارہی ہے تاکہ آپ خودفیصلہ کرسکیں کہ دنیا کی تباہی جوچندگھنٹوں کے فاصلے پرمنتظرتھی،ابھی تک ان خطرات سے باہرنہیں نکل سکی۔
امریکااورایران کے تعلقات کی داستان ایک ایسے آئینے کی مانندہے جس میں بدگمانی کی دھندہمیشہ چھائی رہتی ہے۔اس وقت امریکااور ایران کے درمیان پانچ بڑے اختلافات ایسے موجود ہیں جوکامیابی کی صلیب پردنیاکیامن کوللکاررہے ہیں۔
٭پہلاایرانی جوہری پروگرام کے متعلق ہے،یہ وہ عقدہ ہے جومدتوں سے کھلنے کانام نہیں لیتا؛یہ وہ بنیادی نکتہ نزاع ہے جس نے دہائیوں سے دونوں ممالک کوآمنے سامنے لاکھڑا کیاہے۔امریکاکے نزدیک ایران کاجوہری پروگرام ایک ممکنہ خطرہ ہے،جبکہ ایران اسے اپنی قومی خودمختاری اورسائنسی ترقی کاحق سمجھتاہے۔گویاایک کے نزدیک یہ خطرہ ہے، دوسرے کے نزدیک جائزحق اوروقارکامسئلہ ہے۔
٭دوسراعلاقائی اثرورسوخ ہے،ایران کامحورِمزاحمتامریکا واسرائیل کیلئے ’’خارِراہ‘‘ ہے۔ایران نے مشرقِ وسطی میں اپنے اتحادیوں اور پراکسی گروہوں کے ذریعے ایک ایسا جغرافیائی دائرہ قائم کیاہے جسے وہ مزاحمت کامحورکہتاہے۔امریکااوراس کیاتحادی اسے عدم استحکام کاسبب سمجھتے ہیں۔یوں یہ اختلاف صرف سرحدوں کانہیں،بلکہ نظریات کی جنگ ہے۔
٭تیسراپابندیوں اورمعاشی دباکاہے،امریکاکی اقتصادی پابندیوں کی تلوار،ایران کی گردن پرہمیشہ معلق رہی ہے۔امریکاکی عائدکردہ پابندیاں ایران کی معیشت کومسلسل دباؤ میں رکھتی ہیں۔ایران ان پابندیوں کواقتصادی جنگ قراردیتاہے،جبکہ امریکاانہیںدباؤکاسفارتی ہتھیارسمجھتاہے۔
٭چوتھاآبنائے ہرمزکاتنازع ہے،یہ محض ایک گزرگاہ نہیں،بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ایران اس پراپنی خودمختاری کادعویٰ کرتا ہے،جبکہ امریکااسے بین الاقوامی پانی قرار دیتاہے۔اس اختلاف میں عالمی معیشت کی دھڑکن شامل ہے۔
٭اورپانچواں اعتمادکاشدید فقدان ہے،سب سے بڑامسئلہ شایدیہی ہے کہ دونوں کے درمیان اعتمادکارشتہ ناپیدہے۔دونوں فریقوں کے درمیان بدگمانی کی دیواریں اس قدربلند ہیں کہ مکالمہ بھی سرٹکراتامحسوس ہوتاہے۔ہرمعاہدہ شک کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے اورہربیان کے پیچھے نیت پرسوال اٹھایاجاتاہے۔
اسلام آبادکی سرزمین پرہونے والے مذاکرات بظاہرایک نئی صبح کی امیدتھے،گویااس چراغ کی مانندتھے جسے آندھی کے بیچ روشن کرنے کی سعی کی گئی ہومگردرحقیقت یہ ایک ایسے سفرکاآغازتھاجس کی منزل خوددھندمیں لپٹی ہوئی تھی۔ابتداہی سے یہ امرروزِ روشن کی طرح عیاں تھاکہ دونوں اطراف کے مابین ایسے بنیادی اختلافات کے پہاڑحائل ہیں جونہ صرف محض محض سفارتی مسکراہٹوں سے حل ہوسکتے ہیں اورنہ ہی الفاظ کے پل سے عبورکیاجاسکتاہے۔یہ مذاکرات ایک ایسے دریاپرپل بنانے کی کوشش تھے جس کے دونوں کنارے نہ صرف دورتھے بلکہ درمیان میں طوفانی اورسرکش شیطانی موجیں بھی سر اٹھائے کھڑی تھیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسمائیل بقائی کابیان اس حقیقت کاآئینہ دارہے کہ مذاکرات مکمل ناکام نہیں تھے،مگرچند بنیادی نکات ایسے تھے جو’’گرہِ کور‘‘بنے رہے اورکامیابی سے بھی کوسوں دوررہے لیکن ایرانی ترجمان کے بیان سے یہ حقیقت بھی مترشح ہوتی ہے کہ اگرچہ کئی امورپرمفاہمت کی کرن پھوٹی،مگردویاتین اہم نکات ایسے تھے جو’’گرہِ ناگشودہ ‘‘ بنے رہے۔آبنائے ہرمزجیسے نئے موضوعات نے اس پیچیدگی میں مزیدتہہ د تہہ اضافہ کیا،ہرموضوع اپنے اندرایک نئی الجھن لیے ہوئے تھا،گویاایک مسئلہ حل کرنے کیلئے کئی نئے مسائل کوجنم دیاجارہاہو۔یوں یہ مذاکرات منزل سے پہلے ہی تھک کربیٹھ گئے۔
ایران کاجوہری پروگرام اس تنازع کامرکزی ستون ہے۔یہ تنازع گویاایک ایسی پرانی داستان ہے جس کے اوراق بوسیدہ ضرورہوچکے ہیں،مگراس کی شدت میں کوئی کمی نہیں آئی ۔ امریکاکامؤقف ہے کہ ایران اس پروگرام کی آڑمیں جوہری ہتھیاربنانے کی صلاحیت حاصل کرناچاہتاہے،امریکاکے نزدیک یہ خطرے کی گھنٹی ہے،جبکہ ایران اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسے محض پرامن مقاصدکیلئے قرار دیتاہے اورایران اسے اپنی خودمختاری کااستعارہ سمجھتاہے۔یہ اختلاف دراصل طاقت اورخوف کے درمیان ایک کشمکش ہے، امریکا کاخوف اورایران کی طاقت کی خواہش۔امریکی نائب صدرجے ڈی وینس کے بیان میں ایک واضح پیغام پوشیدہ تھا،ہمیں الفاظ نہیں،یقین چاہیے۔اس سے واضح ہوتاہے کہ امریکا کی اولین ترجیح ایران سے ایسی ٹھوس یقین دہانی حاصل کرناہے جومحض الفاظ تک محدود نہ ہو۔
ان کے مطابق مذاکرات کی روح یہی تھی کہ ایران کونہ صرف جوہری ہتھیاربنانے سے بازرہناہوگابلکہ اس کیلئے درکارتمام وسائل اور صلاحیتوں سے بھی دستبردارہوناہوگابلکہ اس سمت جانے والے تمام راستے بھی مسدودکرنے کی تحریری یقین دہانی کرواناہوگی۔یہ مطالبہ دراصل عدم اعتمادکی بنیادپرکھڑاہے،امریکاکوایران کے وعدوں پریقین نہیں،اوروہ عملی اقدامات کاخواہاں ہے مگربقول ان کے، یہ آمادگی ابھی افق پرنمودارنہیں ہوئی۔
ایران اپنے مؤقف پرکوہِ گراں کی مانند قائم ہے کہ جوہری عدم پھیلاؤکے معاہدے کے تحت اسے پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنے کاپوراحق حاصل ہے۔ایران اپنے مؤقف میں یہ دلیل پیش کرتاہے کہ وہ جوہری عدم پھیلاکے معاہدے کادستخط کنندہ ہے،لہذااسے پرامن مقاصدکیلئے یورینیم افزودہ کرنے کاحق حاصل ہے۔اس کی دس نکاتی تجویز اسی اصول کی بین الاقوامی توثیق کی طلب گارہے گویاوہ اپنے حق کوسندِ جوازدلواناچاہتاہے،جس میں وہ عالمی سطح پراپنے اس حق کی تسلیم شدگی کاحق دارہے۔یہ محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں، بلکہ ایران کی قومی خودمختاری اوروقارکاسوال ہے۔
امریکی خاکہ اس کے برعکس ایک انتہائی مطالبہ پیش کرتاہے،امریکاکے15نکاتی منصوبے میں ایران سے یہ مطالبہ کیاگیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پرہر قسم کی یورینیم افزودگی مکمل طورپر ختم کرے۔ یہ مطالبہ ایران کیلئے ناقابلِ قبول ہے اوریہ ایسامطالبہ ہے جوایران کیلئے اپنی ملکی اورسائنسی خودمختاری سے دستبرداری کے مترادف ہے۔اوریہی وہ مقام ہے جہاں مفاہمت کی راہیں مسدودہوجاتی ہیں۔ یوں یہ اختلاف ایک ایسی لکیربن جاتاہے جسے عبورکرنا دونوں کیلئے مشکل ہے۔(جاری ہے)