ایٹم کا چراغ اور خطرہ کا سایہ

سمیع اللہ ملک(تیسری قسط)
ترقی کی شاہراہ پرآگے بڑھتے ہوئے ہمیں یہ یادرکھناہوگاکہ بڑے قافلے ہمیشہ اپنے کمزورترین پہرے دارکی حفاظت کے محتاج ہوتے ہیں۔ اعتمادوہ سرمایہ ہے جس پرصنعتی عظمت کی عمارت قائم ہوتی ہے،اوراس سرمایہ کی حفاظت ہی دراصل مستقبل کی حفاظت ہے۔جب کسی واقعے کے بارے میں محض قیاس آرائیاں گردش کررہی ہوں توحقیقت اورگمان کے درمیان ایک پردہ حائل رہتاہے،مگرجب متعلقہ ادارہ خوداس امرکی تصدیق کردے کہ اس کے نظام تک غیرمجازرسائی حاصل کی گئی،تووہ پردہ اٹھ جاتاہے۔کوڈن کولم سے متعلق اس معاملے میں ریلائنس گروپ کی جانب سے سرورکے ہیک ہونیکی تصدیق نے اس واقعے کومحض افواہ یاخدشے کے دائرے سے نکال کرحقیقت کے میدان میں لاکھڑاکیا۔
یہ تصدیق محض ایک تکنیکی واقعے کااعتراف نہیں بلکہ جدیدڈیجیٹل نظاموں کیلئے ایک گہراآئینہ بھی ہے،جس میں ادارہ جاتی کمزوریوں،حفاظتی چیلنجزاوربدلتے ہوئے خطرات کی تصویر نمایاں ہوتی ہے۔یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جدیددنیا کے مضبوط ترین ادارے بھی مکمل طورپرناقابلِ تسخیرنہیں،کیونکہ خطرات ہمیشہ باہرسے آنے والی یلغارکی صورت میں ظاہر نہیں ہوتے بلکہ کبھی کبھی نظام کے اندرموجودخلا،غفلت یاکمزوریوں سے بھی جنم لیتے ہیں۔
اے اہلِ نظر!یہ اعتراف دراصل ایک خاموش گھنٹی کی مانندہے جوشورکے بغیربھی بہت کچھ کہہ جاتی ہے۔یہ اعلان کرتی ہے کہ خطرہ محض ایک مفروضہ نہیں بلکہ ایک حقیقی امکان ہے، اوریہ کہ ڈیجیٹل دنیامیں تحفظ کاتصورکسی مستقل قلعے کانام نہیں بلکہ ایک مسلسل نگرانی،تجدید اوراحتیاط کاعمل ہے۔ہیکنگ کی تصدیق ہمیں اس بنیادی حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ آج کے عہد میں معلوماتی نظام انسانی تعمیرکردہ عظیم ڈھانچوں کی مانندہیں۔ان میں جتنی پیچیدگی اوروسعت پیداہوتی ہے،اتنے ہی نئے راستے خطرات کیلئے بھی پیداہو سکتے ہیں۔اس لیے محض مضبوط ٹیکنالوجی کافی نہیں بلکہ مضبوط حفاظتی شعور،بروقت نگرانی اورادارہ جاتی ذمہ داری بھی ناگزیر ہے۔
یہ واقعہ اس حقیقت کومزید نمایاں کرتاہے کہ سائبرتحفظ کوئی ایک مرتبہ حاصل کرلینے والی منزل نہیں بلکہ ایک مسلسل سفرہے۔ہرنئی ٹیکنالوجی کے ساتھ نئے خطرات جنم لیتے ہیں،اور ہرنئے خطرے کے مقابلے کیلئے نئی حکمت عملی،نئی بصیرت اورنئی تیاری درکار ہوتی ہے۔پس، ہیکنگ کی یہ تصدیق ایک تنبیہ بھی ہے اورایک سبق بھی۔تنبیہ اس لیے کہ جدید نظام اپنی ظاہری مضبوطی کے باوجود اندرونی کمزوریوں سے متاثر ہوسکتے ہیں،اورسبق اس لیے کہ تحفظ کاحقیقی مفہوم صرف دفاعی دیواریں بلندکرنانہیں بلکہ ان دیواروں میں پیداہونے والی ہرممکن دراڑکو بروقت پہچاننابھی ہے۔کیونکہ آج کے ڈیجیٹل عہد میں خاموش خطرے اکثربلند آوازحملوں سے زیادہ دوررس اثرات رکھتے ہیں،اورجو ادارے اس خاموشی کی زبان کوسمجھ لیتے ہیں،وہی مستقبل کے چیلنجزکامقابلہ کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔
کسی بھی حساس واقعے کے رونماہونے کے بعدریاستی اورادارہ جاتی وضاحتیں ایک ناگزیرضرورت بن جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کوڈن کولم سے متعلق ڈیٹالیک کے معاملے میں نیو کلیئرپاورکارپوریشن کی جانب سے یہ واضح کیاگیاکہ افشاشدہ معلومات کاجوہری تحفظ یا حساس سکیورٹی امورسے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔یہ مؤقف بظاہرعوامی اضطراب کوکم کرنے اورادارہ جاتی ذمہ داری کااظہار کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے،کیونکہ کسی بھی ریاستی نظام کیلئے ضروری ہوتاہے کہ وہ اپنے شہریوں کوغیر یقینی کی کیفیت میں مبتلانہ رہنے دے۔
مگر،اے اہلِ فکر!اعتماد کی عمارت صرف بیانات کے ستونوں پرقائم نہیں ہوتی،بلکہ اس کی بنیادشفافیت،حقیقت پسندی اورجواب دہی کی مضبوط زمین پراستوارہوتی ہے۔ایک سرکاری وضاحت اس وقت زیادہ مثرثابت ہوتی ہے جب اس کے الفاظ حقائق کے آئینے میں واضح نظرآئیں اوراس کے ساتھ وہ اقدامات بھی موجودہوں جوعوامی اعتمادکومضبوط بناسکیں۔ریاستی اداروں کے بیانات محض معلومات کی ترسیل کاذریعہ نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک نفسیاتی اثربھی رکھتے ہیں۔وہ عوام کے ذہنوں میں پھیلی بے یقینی کوکم کرنے،خوف کی شدت کومتوازن کرنے اوراعتمادکی فضاقائم کرنے کاذریعہ بنتے ہیں مگران بیانات کی اصل قوت ان کی زبان کی خوبصورتی میں نہیں بلکہ ان کی صداقت،شفافیت اورعملی پشت پناہی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔یہاں ایک بنیادی سوال پیداہوتاہے:کیامحض یہ یقین دہانی کہ لیک شدہ معلومات حساس نوعیت کی نہیں تھیں،عوامی تشویش کومکمل طور پرختم کرنے کیلئے کافی ہے؟یاجدید دورکاتقاضا یہ ہے کہ ادارے وضاحت کے ساتھ ساتھ اس پورے عمل کی شفاف تحقیق،حفاظتی جائزے اورمستقبل کیلئے اصلاحی اقدامات بھی سامنے رکھیں؟
اے اربابِ اختیار!تاریخ کاسبق یہی ہے کہ اعتمادحکم سے نہیں بلکہ کردارسے پیداہوتاہے۔اگرکوئی بیان حقیقت کے آئینے میں صاف دکھائی دے تووہ اطمینان کاسبب بنتاہے، لیکن اگراس میں ابہام،پردہ پوشی یامعلومات کی کمی محسوس ہوتووہ یقین کی بجائے سوالات کو جنم دیتاہے۔عوامی اعتمادایک ایساچراغ ہے جسے محض الفاظ کے تیل سے نہیں بلکہ شفافیت اوراحتساب کی روشنی سے روشن رکھاجاتا ہے۔پس،کوڈن کولم کے واقعے میں سرکاری مؤقف کی اہمیت صرف اس بات میں نہیں کہ اس نے کیاکہا،بلکہ اس میں بھی ہے کہ اس مؤقف کے ساتھ ادارہ جاتی رویہ کیااختیارکیاگیاکیونکہ جدیدجمہوری معاشروں میں تحفظ کانظام صرف ٹیکنالوجی اورحفاظتی دیواروں سے نہیں بلکہ عوام اوراداروں کے درمیان قائم اعتمادکے ر شتے سے بھی مضبوط ہوتاہے۔یقین دہانی ضروری ہے،مگریقین دہانی کی اصل قوت اسی وقت ظاہرہوتی ہے جب اس کے ساتھ شفافیت،احتساب اورمسلسل بہتری کا عزم بھی موجودہو۔یہی وہ راستہ ہے جومحض ایک واقعے کے اثرات کوکم نہیں کرتابلکہ مستقبل کے خطرات کے مقابلے کیلئے ایک مضبوط اورقابلِ اعتماد نظام کی بنیاد بھی فراہم کرتاہے۔
تمل ناڈوکے ساحلی خطے میں قائم کوڈن کولم جوہری پاورپلانٹ محض ایک صنعتی تنصیب یابجلی پیداکرنے والاایک مرکزنہیں،بلکہ انڈیاکی توانائی پالیسی،قومی ترقی کے منصوبوں اور عالمی تعاون کی ایک وسیع ترداستان کااہم باب ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں سائنس، معیشت،سیاست اورسفارت کاری ایک دوسرے سے جڑکرایک ایسی تصویرتشکیل دیتے ہیں جس کی اہمیت محض توانائی کی پیداوارسے کہیں آگے بڑھ جاتی ہے۔یہ پلانٹ انڈیاکاسب سے بڑاجوہری پاورمنصوبہ تصورکیاجاتاہے،جس کی تعمیرمیں روسی تعاون شامل رہاہے۔ اس کے مختلف یونٹس ملک کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں نمایاں کرداراداکررہے ہیں۔مگراس کی معنویت صرف اس کی بجلی پیداکرنے کی صلاحیت تک محدود نہیں،بلکہ یہ انڈیاکی طویل المدتی توانائی حکمتِ عملی کاایک بنیادی ستون بھی ہے۔
اے اہلِ نظر!بعض عمارتیں صرف اینٹوں،فولاد اورمشینوں سے نہیں بنتیں بلکہ ان کے اندرایک پورے عہدکی امیدیں،ترجیحات اورعزائم بھی پیوست ہوتے ہیں۔کوڈن کولم بھی ایسی ہی ایک علامت ہے،جہاں ہرنظام،ہرتنصیب اورہرتکنیکی جزوایک بڑی قومی کہانی کاحصہ ہے ا،یسی کہانی جس میں ترقی کی خواہش،توانائی کی ضرورت،بین الاقوامی تعلقات اورسیاسی مفادات سب ایک ساتھ موجودہیں۔اس منصوبے کی اہمیت اس کے جغرافیائی محلِ وقوع،بین الاقوامی شراکت داری اوروسیع مالیاتی حجم سے بھی واضح ہوتی ہے۔یہ صرف ایک داخلی توانائی منصوبہ نہیں بلکہ عالمی تعاون کی ایک مثال بھی ہے،جہاں مختلف ممالک کی تکنیکی مہارت اورسفارتی روابط ایک مشترکہ مقصدکیلئے یکجاہوئے ہیں۔یہی عناصراسے ایک عام صنعتی منصوبے سے بلندکرکے قومی اوربین الاقوامی سطح کیایک اہم اثاثے میں تبدیل کرتے ہیں۔
یہ حقیقت بھی پیشِ نظررہنی چاہیے کہ جومنصوبہ قومی پالیسی کامرکزی ستون بن جائے،اس کی حفاظت بھی اسی درجے کی جامع حکمتِ عملی کاتقاضاکرتی ہے۔کیونکہ جتنابڑاکسی نظام کاکردارہوتاہے،اتنی ہی بڑی اس کی ذمہ داری اورتحفظ کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ایک ایسے مرکزکی سلامتی صرف اس کی مشینری یاحفاظتی حصارتک محدودنہیں رہ سکتی بلکہ اس کے تمام تکنیکی،انتظامی اورمعلوماتی پہلوں کومحیط ہونی چاہیے۔
کوڈن کولم کی داستان دراصل جدیدریاستوں کی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے جہاں توانائی صرف ضرورت نہیں بلکہ طاقت، خود مختاری اورمستقبل کی سمت متعین کرنے کاذریعہ بھی بن چکی ہے۔ایسے میں اس نوع کے منصوبوں کاتحفظ محض ایک ادارہ جاتی فریضہ نہیں بلکہ قومی ترجیح کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔پس، کوڈن کولم کوصرف ایک جوہری پاورپلانٹ کے طورپردیکھنا اس کی اصل معنویت کومحدودکرناہوگا۔(جاری ہے)