پلوامہ حملہ اور مودی کی کرپشن بے نقاب کرنے والے سابق گورنر ستیہ پال کی پراسرار وفات پر سوالات کی بوچھاڑ

پلوامہ حملہ اور مودی کی کرپشن بے نقاب کرنے والے سابق گورنر ستیہ پال کی پراسرار وفات پر سوالات کی بوچھاڑ

مقبوضہ کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال کی پراسرار موت پر اٹھنے والے سوالات، پلوامہ حملے اور مودی کی کرپشن کو بے نقاب کرنے کی کوششیں

مقبوضہ کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال کی موت پر سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جنہیں بعض حلقے بھارتی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی اور سیاسی سازشوں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ ستیہ پال نے پلوامہ حملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے حالیہ ٹویٹ میں بتایا کہ حکومت کی جانب سے ان پر دباؤ اور دھمکیاں دی جا رہی ہیں، اور انہوں نے واضح کیا کہ چاہے وہ زندہ رہیں یا نہ رہیں، سچائی کا اظہار جاری رکھیں گے۔

سابق گورنر نے راہول گاندھی کے ساتھ گفتگو میں انکشاف کیا کہ مودی نے پلوامہ واقعے کو اپنی سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا، اور اس کے بعد بھی انہیں ایئرکرافٹ فراہم نہ کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعہ کی شام کو انہوں نے وزیراعظم کو آگاہ کیا تھا کہ یہ ان کی غلطی سے ہوا ہے، اور اگر ایئرکرافٹ فراہم کر دیے جاتے تو یہ واقعہ پیش نہ آتا۔ کرن تھاپر کے انٹرویو میں بھی ستیہ پال نے مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مودی کی کرپشن سے نفرت نہیں ہے، مگر وہ حقائق بیان کرنے سے باز نہیں رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ تاریخ گواہ ہے کہ مودی نے ہمیشہ تنقیدی آوازوں کو دبانے اور سیاسی مخالفین کو خاموش کرانے کے لیے طاقت کا استعمال کیا ہے۔ ستیہ پال کی پراسرار موت کو بھارتی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے قبل بھی بھارت میں تنقیدی آوازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ واقعہ بھارت کے سیاسی اور انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھا رہا ہے، اور کشمیری عوام کی آزادی اور حقائق کے خلاف جاری ظلم و ستم کی عکاسی کرتا ہے۔