جرمنی میں حالیہ عرصے کے دوران فلسطین کے حق میں متعدد مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں، جن میں سے ایک اہم مظاہرہ حال ہی میں برلن میں ہوا۔
اس مظاہرے میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے "مغربی کنارے میں اپنا ظلم ختم کریں" اور "فلسطین کو آزاد کریں" جیسے نعرے لگائے۔ اس دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی اور متعدد افراد کو حراست میں لیا۔ اس سے قبل، نومبر 2024 میں بھی جرمنی کے دارالحکومت برلن میں فلسطین کے حق میں ایک بڑا مظاہرہ منعقد ہوا تھا، جس میں ایک ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی اور غزہ میں ہونے والی کارروائیوں کے خلاف نعرے لگائے تھے۔ ان مظاہروں کے دوران جرمن پولیس نے بعض اوقات مظاہرین کے خلاف کارروائی کی ہے۔ مثلاً، اپریل 2024 میں لاہور میں ہونے والی ایک کانفرنس کے دوران جرمن سفیر کی تقریر کے دوران فلسطین کے حق میں نعرے لگانے والے طلباء کو کانفرنس سے نکال دیا گیا تھا۔
مزید برآں، نومبر 2023 میں جرمنی نے حماس کی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کی تھی، جس کے نتیجے میں حماس کی حمایت میں کی جانے والی سرگرمیاں غیر قانونی قرار پائیں۔ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جرمنی میں فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والے مظاہرین کو پولیس کی جانب سے روکنے اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔