ویب ڈیسک: اڈیالہ جیل میں بجلی کی بندش کے باعث ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی نہ ہونے پر ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف فرد جرم عائد نہ کی جاسکی۔
انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد کے جج طاہر عباس سپرا نے انٹرنیشنل کرکٹ ٹیم کی آمد پر روٹ توڑنے اور لوگوں میں اشتعال پیدا کرنے کے مقدمے کی سماعت کی۔ پراسیکیوٹر راجا نوید جبکہ ملزمان کے مرکزی وکلا کے جونیئر وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔جونیئر وکیل نے استدعا کی کہ مرکزی وکلا ہائیکورٹ میں مصروف ہیں، اس لیے عدالت چالان کی نقول فراہم کرکے آئندہ تاریخ مقرر کردے۔ جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ چالان کی نقول پہلے ہی فراہم کی جاچکی ہیں اور آج کیس میں فرد جرم عائد کی جانی ہے۔جونیئر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کو وکلا سے ملاقات کی رسائی نہیں دی جارہی۔ اس پر جج نے ریمارکس دیے کہ وکالت ناموں پر دستخط ہوچکے ہیں اور عدالت کارروائی کو منظم کرنے کے لیے مقررہ طریقہ کار سے ہٹنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ عدالت نے مرکزی وکلا کو ساڑھے 11 بجے تک پیش ہونے کی ہدایت کی۔
بعد ازاں عدالت نے سماعت میں ساڑھے 11 بجے تک وقفہ کیا، تاہم اڈیالہ جیل میں بجلی کی بندش کے باعث ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکا، جس کے نتیجے میں فرد جرم عائد نہ ہوسکی۔جج طاہر عباس سپرا نے جیل حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر دونوں ملزمان کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری یقینی بنائی جائے، بصورت دیگر جیل حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔ عدالت نے جیل حکام کو ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی وکلا سے ملاقات بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر دونوں ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف مقدمہ تھانہ آبپارہ میں درج ہے۔