ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے خاتون پر تشدد کے الزام میں وائس چانسلر ہیلتھ سروسز کمیشن شہزاد علی خان پر فردِ جرم عائد کردی۔
ملزم نے عدالت میں صحتِ جرم سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ اپنا دفاع پیش کریں گے۔جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی نے ملزم کی موجودگی میں فردِ جرم پڑھ کر سنائی۔ عدالت نے کیس میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 354 اور 337-A کے تحت کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔
خاتون پر دست درازی اور تشدد کے الزامات
عدالت کی جانب سے 12 اکتوبر کو جاری کیے گئے تحریری حکم نامے کے مطابق شہزاد علی خان پر الزام ہے کہ انہوں نے 17 جولائی 2025 کو مدعیہ کے ساتھ دست درازی کی۔مقدمے میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ ملزم نے خاتون کو مکے اور لاتیں ماریں اور ان کی گردن دبا کر زخمی کیا۔ یہ الزامات عدالتی کارروائی کا حصہ ہیں، جن کا فیصلہ مقدمے کی سماعت اور شواہد کی روشنی میں ہوگا۔
ویمن پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج
شہزاد علی خان کے خلاف خاتون کی شکایت پر 29 جولائی 2025 کو ویمن پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اب عدالت نے ملزم پر فردِ جرم عائد کرتے ہوئے کیس کو باقاعدہ ٹرائل کے مرحلے میں آگے بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔
ملزم کا صحتِ جرم سے انکار
عدالت میں فردِ جرم پڑھ کر سنائے جانے کے بعد شہزاد علی خان نے صحتِ جرم سے انکار کردیا۔ ملزم نے اپنے بیان میں کہا کہ ضرورت پڑنے پر وہ اپنا دفاع پیش کریں گے۔عدالت نے مقدمے میں متعلقہ قانونی دفعات کے تحت کارروائی جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔ مقدمے میں عائد الزامات سے متعلق حتمی فیصلہ شواہد، گواہوں کے بیانات اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔