ارجنٹائن کے جنوبی علاقے پیٹاگونیا میں واقع جزیرہ نما والڈیز کے ساحل پر جنوبی رائٹ وہیل کے بچوں کی غیر معمولی تعداد میں ہلاکتوں نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔
تازہ اندازوں کے مطابق رواں افزائشِ نسل کے موسم کے دوران تقریباً 350 وہیل کے بچے ہلاک ہوچکے ہیں، جو اس علاقے میں معمول کی نسبت کہیں زیادہ اموات ہیں۔ وہیل کے بچوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات جون سے سامنے آنا شروع ہوئی تھیں، تاہم حالیہ ہفتوں کے دوران اموات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حتمی تعداد اس سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے، کیونکہ جنوبی رائٹ وہیل کی افزائشِ نسل کا موسم نومبر کے آخر تک جاری رہتا ہے۔ابتدائی تحقیقات میں ایک بیکٹیریائی انفیکشن کو اموات کی ممکنہ وجہ قرار دیا جارہا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق کیلپ گلز (Kelp Gulls) نامی سمندری پرندے وہیل کے بچوں کی جلد اور چربی کو نوچتے ہیں، جس سے زخم بن سکتے ہیں اور ان زخموں کے ذریعے نقصان دہ بیکٹیریا جسم میں داخل ہونے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ وہیل کے بچوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی یہی واحد وجہ ہے۔سائنس دان سمندری پانی کے درجہ حرارت، ماحولیاتی تبدیلی، خوراک کی دستیابی اور انسانی سرگرمیوں سمیت دیگر ممکنہ عوامل کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ مردہ وہیلوں سے حاصل کیے گئے نمونے لیبارٹریز میں تجزیے کے لیے بھیجے گئے ہیں تاکہ بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی اصل وجہ کا تعین کیا جاسکے۔