لانگ مارچ رواں دواں ، حکومت آئے بات کرے : بیر سٹر گوہر ،اسلام آبادداخل نہیں ہونے دینگے:وفاقی وزرا

بیرسٹر گوہر  لانگ مارچ، لفظی جنگ تیز  رانا ثنا اللہ
ملک میں سسٹم کیخلاف نفرت دیکھ رہا،پانی سر سے گزر گیا تو کوئی کنٹرول نہ کرسکے گا:سہیل آفریدی،بغیر گورنر راج کے خیبرپختونخوا میں گورنراج قائم:چیئرمین پی ٹی آئی ،دہشتگردی کیخلاف پالیسی بنانے سے کس نے روکا؟خواجہ آصف،مذاکرات میں پی ٹی آئی وفد کے پاس مینڈیٹ نہیں تھا:طارق فضل 
 پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہے ،دوسرے روز قافلہ کرک سے چل پڑا،چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ابھی وقت ہے حکومت آئے بات کرے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا پورے ملک میں اس سسٹم کے خلاف نفرت دیکھ رہا ہوں، خیبر سے کراچی تک ہر شخص اسلام آباد جانا چاہتا ہے،جب پانی سر سے گزر جائے گا تو نہ میرے بس میں ہوگا کہ ان کو کنٹرول کر سکوں، نہ کسی کے باپ میں جرات ہوگی کہ پاکستانیوں کو کنٹرول کرسکے۔کرک سے روانگی کے موقع پر لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا دہشت گردی ایک منصوبہ بندی کے تحت مسلط کی گئی اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک تقسیم ہو رہا ہے،خیبر پختونخوا کو غلط پالیسی کا حصہ بننے پر مجبور کیا جا رہا تھا اور صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا ہم ہر اس پالیسی سے باغی ہیں، جو عوام کے مفاد میں نہ ہو۔ کچھ لوگ ٹی وی پر بیٹھ کر کہتے ہیں کہ میں ناسمجھ ہوں،اگر اپنے عوام کے ساتھ کھڑا ہونا نا سمجھی ہے تو میں یہ نا سمجھی بار بار کروں گا، جس حکومت کا آپ حصہ ہیں وہ 5300 ارب روپے کی کرپشن کر چکی ہے، اگر آپ کیلئے یہ سمجھداری ہے تو میں ایسی سمجھداری پر لعنت بھیجتا ہوں۔انہوں نے کہا پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان ملک میں حقیقی سیاسی تبدیلی لا سکتے ہیں۔اپنی تقریر کے اختتام پر سہیل آفریدی نے کارکنوں سے صوابی پہنچنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہاں آئندہ کے لائحہٓ عمل کا اعلان کیا جائے۔سہیل آفریدی نے وفاق کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی چاہتے ہیں،جمہوری طریقے سے اپنے مطالبات پیش کرتے ہیں، تو آپ کو ماننے چاہئیں۔ واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا پہلا پڑائو ضلع کرک میں تھا، جبکہ دوسرا پڑائو کوہاٹ شہر سے چند کلومیٹر پہلے لاچی کے مقام پر ہے۔پی ٹی آئی کے مطابق ٓچھ اکتوبر یعنی منگل کو دن 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کْرم اور اورکزئی اضلاع سے آنے والے افراد قافلے میں شامل ہوں گے، جس کے بعد قافلہ کوہاٹ سے پشاور کی جانب روانہ ہو گا۔ پشاور پہنچنے کے بعد قافلہ متنی کے قریب رات گزارے گا۔متنی کا علاقہ پشاور شہر سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے سوات میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا جمہوریت میں احتجاج کرنا ہمارا حق ہے، ہمارے کارکن پرامن ہیں، اس لیے گولی نہیں چلنی چاہیے۔حکومت نے مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا، حکومتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے مذاکرات کے حتمی ڈرافٹ پر اتفاق نہ ہو سکا۔مذاکرات تو جنگوں کے دوران بھی ہوتے ہیں، تحریک انصاف کا لانگ مارچ رکا نہیں اب بھی وقت ہے حکومت آگے آئے اور بات کرے، حکومت مذاکرات کے معاملے میں مخلص ہے تو عمران خان سے ملاقات کرائی جائے، ہمارے مطالبات سادہ ہیں،کل بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرادیں، ان کی فیملی سے ملاقات کرائیں، عمران خان کی فیملی کو کوٹ لکھپت جیل میں کیوں رکھاگیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے حوالے سے تحریک انصاف کی پالیسی زیرو ٹالرنس کی ہے۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا خاتمہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے ممکن نہیں۔ عدالتوں کے احکامات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، صوبے میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئیمئوثر اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا پی ٹی آئی نہ کے پی حکومت چھوڑ رہی ہے، نہ صوبائی اسمبلی تحلیل کر رہی ہے، غیر آئینی اقدامات پرپی ٹی آئی کے تمام سینیٹرز، ایم این ایز اور ایم پی ایزبائیکاٹ پرمجبور ہو جائیں گے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشتگردی پر متفقہ لائحہ عمل کا ہم نے مطالبہ رکھا، ہم نے کے پی، بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں دہشتگردی کے خلاف متفقہ بیانیے کی بات کی، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس کسی اور سے احکامات لیں تو صوبے میں امن کیسے آئیگا، ہمارے ہی صوبے کے ڈی سی کسی اور کے کہنے پر 144 لگا رہے ہیں۔ہم نے مخلصانہ کوششیں کیں مگر حکومت نہیں مانی، وفاقی حکومت ہمارے صوبے میں مداخلت بند کر دے، بغیر گورنر راج کے خیبرپختونخوا میں گورنراج قائم ہے، 5 نکات پر بات ہوئی لیکن حکومت نے سنجیدگی نہیں دکھائی، اب بھی وقت ہے حکومت آگے آئے اور بات کرے۔تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اسلام آباد میں پی ٹی آئی وکلا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا بانی پی ٹی آئی کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کریں گے، مذاکرات والے روز حکومت سے دو اہم نکات پر بات چیت ختم ہوگئی، ہم نے دو مطالبات مذاکرات میں رکھے جس پر حکومت آنے کو تیار نہیں تھی۔ ہمارے دو بڑے مطالبات تھے کہ ایک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائی جائے، دوسرا مذاکرات میں جو ڈیڈ لاک آیا وہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا خاتمہ تھا، ہمارا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے جرگے کو سنا جائے، انہیں رد کرنا دانشمندی نہیں ہوگی۔ ہم امن جرگہ کی دستاویزات دکھائیں گے جس پر مسلم لیگ ن، اے این پی سمیت دیگر جماعتوں کے دستخط موجود ہیں، ہم ہر مسودے پر باری باری بڑھے، محسن نقوی بہت مرتبہ اجلاس چھوڑ کر باہر گئے، رات 8 بجے تک ہم کئی نکات پر متفق ہوگئے لیکن پھر رات 2 بجے معالجین کی بات پر متفق نہ ہوئے، 72گھنٹے والے معاملے پر بھی بات ہوئی۔ آخری بات سب باتوں پر بھاری تھی، مذاکرات میں ہمارا تقاضا تھا کہ ہماری آج ملاقات کروائی جائے اور ہمیں یقین دلایا گیا تھا کہ معاہدہ ہوا تو منگل کو وکلا اور بہنوں کی ملاقات کروا دی جائے گی، پھر یہ بھی کہا گیا کہ آئندہ سے ملاقاتیں بحال ہو جائیں گی، علامہ ناصر عباس کی ملاقات کے معاملے پر بھی بات ہوئی۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ طے پایا کہ اگر معاہدہ ہوا تو تمام اسیران کو رہا کر دیا جائے گا، معمر اور خواتین کی رہائی پر بھی بات مثبت انداز میں بڑھ رہی تھی، اسی لیے یہ تاثر سامنے آیا کہ مذاکرات کامیابی کے قریب ہیں تاہم بانی کے معالجین اور خیبر پختونخوا کے معاملے پر مذاکرات کی بات ٹوٹ گئی۔انہوں نے کہا لانگ مارچ کے سالار سہیل آفریدی ہیں اور ہم ان کا ساتھ دیں گے، ہم سہیل آفریدی کے مئوقف کے ساتھ ہیں، کے پی میں جو بھی فیصلہ ہوگا وہ سب کی مشاورت سے ہونا چاہیے، ہم سب مل کر ملک کو استحکام کی جانب لے کر جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا ہم آج بھی کہتے ہیں قربتوں کو دوریوں میں نہ بدلا جائے، ہم اس دن معاملات کے حل کے قریب تھے لیکن ایک دم قربت کو دوری میں بدل دیا گیا، حکومتی کمیٹی نے کہا کہ ہم نہیں دیتے ذاتی معالجین کو رسائی، ہم نہیں کرتے متفقہ لائحہ عمل پر کام، پھر ہم کیا کریں۔انہوں نے صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات،ان کی صحت سے متعلق معاملات اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے لائحہ عمل سمیت اصولی مئوقف پر بات ہو تو مذاکرات دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں۔ حکومت چاہے تو علامہ راجا ناصر عباس اور محمود اچکزئی سے رابطہ کرسکتی ہے رابطے کے کئی ذرائع موجود ہیں وفاقی وزرا نے کہا خیبرپختونخوا حکومت کے لانگ مارچ کو پنجاب اور اسلام آباد داخل نہیں ہونے دیا جائے گا،کے پی کے عوام کا تحفظ اور دہشت گردی سے ان کو نجات دلانا ہماری ذمہ داری ہے،اس کے لئے وفاق اپنا کردار ادا کرے گا۔سہیل آفریدی بتائیں دہشت گردی کے خلاف پالیسی بنانے سے انہیں کس نے روکا؟ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات اگر نتیجہ خیز بھی ہوتے تو احترام کی کیا ضمانت ہے؟ مذاکرات میں پی ٹی آئی وفد کے پاس مینڈیٹ نہیں تھا۔کبھی بہنیں کبھی کوئی اور سامنے آجاتا ہے۔وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کشمیر کونسل میں ممبر قومی اسمبلی ثمر ہارون بلور،سینیٹر زاہد خان اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کے پی کے کے عوام ان کی مفاداتی سیاست میں ان کے آلہ کار نہ بنیں، لانگ مارچ کو پنجاب اور اسلام آباد داخل نہیں ہونے دیں گے۔دہشتگردی صرف خیبرپختونخوا نہیں پورے ملک کا مسئلہ ہے،خیبرپختونخوا میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں،گورنر راج سیاسی طور پر کوئی اچھا فیصلہ نہیں،ایک طرف سیاست ہے دوسری طرف ریاست ہے،کے پی میں حکومت کی کوئی رٹ نہیں ہے، خیبر پختونخوا میں حالات روز بروز خراب ہورہے ہیں۔ پی ٹی آئی میں اچھے لوگ بھی ہیں تاہم وزیراعلیٰ سمیت چند لوگ اقتدار اور احتجاج کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کررہے ہیں،ان کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف نرم رویہ نقصان دہ ہے،اس سے کے پی کے عوام اور سیاسی مخصوص جماعتوں کا نقصان ہورہا ہے۔ مذاکراتی عمل کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان معاملات طے پا گئے تھے،چار بار مسودہ تیار ہوا پھر اس کو مشترکہ طور پر جاری کرنے پر بھی اتفاق ہوا تاہم پھر وزیر اعلیٰ کے پی نے لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلان کرکے اس کو سبوتاڑ کیا۔اپنی سیاست کو زندہ رکھنے کے لئے یہ لوگ احتجاج کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔امیر مقام نے کہا کہ صوبائی اسمبلی سے قرادادمنظوری کا کریڈٹ لینے والوں نیاس قرارداد میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن بند کا بھی کہا ہے۔پولیس کو مضبوط کرنا صوبائی حکومت کا کام ہے تاہم اس کے حوالے سے ایک متنازعہ ترمیم کی گئی۔یہ بتائیں کہ اس ترمیم کی ضرورت کیونکر پیش آئی،یہ پولیس کے حوصلے پست کرنے کے مترادف ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان تحریک انصاف سے 8 سوالات کے جواب مانگ لیے۔ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا تحریک انصاف کی یہ دلیل مسلسل سننے کو ملی کہ ہمیں دہشت گردی کے خلاف پالیسی بنانے نہیں دی گئی، اس جھوٹے دعوے پر میرے تحریک انصاف سے 8 بنیادی سوالات ہیں۔ پہلا سوال ہے کہ گزشتہ 13 سال سے خیبر پختونخوا میں آپ کی حکومت رہی، وفاق میں بھی آپ اقتدار میں رہے، آپ کو دہشت گردی کے خلاف پالیسی بنانے سے کس نے روکا؟ نیشنل ایکشن پلان پر عمل سے کون سے پالیسی روک رہی ہے ؟ اپیکس کمیٹی میٹنگز بلانے سے کونسی پالیسی روک رہی ہے؟دوسرا سوال یہ ہے کہ دہشت گرد کو دہشت گرد کہنا، افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کی مذمت کرنا، پاک فوج اور عوام پر حملوں کے خلاف کھل کر افواج کے ساتھ کھڑا ہونے کے لئے آپ کو کس پالیسی کی ضرورت ہے؟تیسرا سوال ہے کہ حالیہ دنوں میں افغانستان کی جانب سے کوہاٹ میں ڈرون حملے کیے گئے، آپ کی صوبائی حکومت نے ان حملوں کی کھل کر مذمت کیوں نہیں کی؟ کونسی پالیسی آپ کو روکتی رہی؟چوتھی بات یہ ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کی سرحدی چوکیوں اور فوجی جوانوں پر فائرنگ ہوتی ہے، دراندازی ہوتی ہے اور دہشت گردوں کی براہِ راست یا بالواسطہ معاونت کی جاتی ہے۔ آپ نے آج تک کتنی مرتبہ افغان رجیم کا نام لے کر ان سرحدی خلاف ورزیوں پر احتجاج یا مذمت کی؟ اس کے لیے کس پالیسی کی ضرورت ہے؟ٓسہیل آفریدی سے پانچواں سوال ہے کہ آپ کے اپنے صوبے میں دہشت گردی کے لیے معاون غیرقانونی معیشت جیسا کہ بھتہ خوری، سمگلنگ اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے گزشتہ 13 سال میں آپ نے کون سے عملی اقدامات کیے اور اگر کیے تو وہ بتائیں؟خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سے چھٹا سوال ہے کہ دہشت گردی کے خلاف برسر پیکار سکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیادوں پر اپنی قربانیاں دے رہی ہیں، آپ نے ان فورسز سے کتنی دفعہ ان کی پوسٹوں پر جاکر ان سے اظہار یکجہتی کیا؟ اور تو اور خیبرپختونخوا کے عوام جو خود بھی دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہیں تم نے کتنی دفعہ جا کر ان یتیموں کے سر پر دست شفقت رکھا؟ ساتواں سوال یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ریاست پاکستان کے بیانیے کو تم مختلف ہتھکنڈوں اور طریقوں سے کنفیوز کیوں کرتے ہو، تم خوارج کو خوارج کیوں نہیں کہتے اور ان خوارج کا نام لے کر انکی مذمت کیوں نہیں کرتے؟ اس کے لئے کونسی پالیسی چاہئے؟ آٹھویں بات یہ ہے کہ ان تمام باتوں سے صرف ایک اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ 13 سال کی حکمرانی میں آپ نے کرپشن نے کو بے پناہ فروغ دیا صوبے کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا، سوشل میڈیا پر آپکے قومی و صوبائی ممبران ایک دوسرے پر کھل کر کروڑوں اربوں لوٹنے کے الزام لگاتے ہیں۔ ایک خاتون رکن قومی اسمبلی کھل کر میڈیا پر بیرون ملک سے آنے والے کروڑوں روپے کے پارٹی فنڈز خوربرد کرنے کا الزام لگاتی ہیں، اس کا جواب دیں۔انہوں نے کہا پی ٹی آئی سے مذاکرات نتیجہ خیز ہوتے بھی تو احترام کی کیا ضمانت ہے؟ ورکر سڑکوں پر اسلحہ بردار آئے ہوئے ہیں اورٓ دلیرلیڈربم پروف بلٹ پروف سرکاری گاڑیوں میں چوہوں کی طرح چھپے ہوئے ہیں،ہیلی کاپٹر اور سرکاری وسائل کا استعمال، اسلحہ بردارجلوس ٓعدالتی حکم کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ لیڈر دلیر ہو، دو نمبر مال کھایا نہ ہو تو وہ ورکر کے ساتھ شانہ بہ شانہ ہوتا ہے۔ٓکہتے تھے حملہ سومنات پر ہوگا یہ اسلام آباد ہے، یہ غزنی سے تو باہر نکلیں۔وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہیکہ پی ٹی آئی وفد کے سامنے رکھے گئے مطالبات سے متعلق بتایا جائے کہ ان میں سے کونسا مطالبہ غیر آئینی یا بس سے باہر ہے؟طارق فضل نے کہا کہ پہلا مطالبہ کالعدم ٹی ٹی پی اور دہشتگردوں کی مذمت کرنا تھا، دوسرا مطالبہ صوبے میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کا مکمل خاتمہ اور تیسرا افغانستان سے متعلق خارجہ پالیسی پر عمل درآمد تھا۔وفاقی وزیر نے مزید کہا چوتھا مطالبہ افغان مہاجرین کی واپسی، پانچواں مطالبہ کے پی پولیس ایکٹ پر نظرثانی، چھٹا مطالبہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں افواج کے ساتھ تعاون اور ساتواں مطالبہ نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل درآمد کرنا تھا۔طارق فضل نے کہا مذاکرات میں پی ٹی آئی وفد کے پاس مینڈیٹ نہیں تھا، سہیل آفریدی خود یا کوئی صوبائی نمائندہ مذاکرات میں شامل ہوتا تو بہتر تھا،اصل مقصد لانگ مارچ روکنا نہیں بلکہ دہشت گردی کا خاتمہ تھا۔دوسری جانب پارلیمانی سیکریٹری اطلاعات بیرسٹر دانیال چوہدری نے پیر کو نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کھلے دل سے مذاکرات کیے، تمام معاملات فائنل ہونے والے تھے۔ لیکن اچانک سب کچھ ختم کر دیا گیا۔بیرسٹر دانیال چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ طے ہی نہیں ہو سکا کہ ان میں سے بات کس سے کرنی ہے۔ کبھی بہنیں، کبھی خیبر پختونخوا حکومت اور کبھی کوئی اور سامنے آ جاتا ہے۔