اسرائیلی حملے کے باوجود صمود فلوٹیلا منزل کی جانب رواں دواں گرفتار ارکان کا اسرائیلی کھانا قبول کرنے سے انکار

 اسرا ئیل کیخلاف دنیا بھر میں مظاہر ے ،کولمبیا کے صدر نے اسرائیلی سفارتی عملے کو ملک بدر ،آزاد تجارتی معاہدہ ختم' کر دیا
 گلوبل صمود فلوٹیلا  پر اسرائیلی حملے اور  انسانی حقوق کے کارکنوں کو گرفتار کرنا بحری قزاقی اور دہشت گردی ہے،حماس
دوحہ،  غزہ،  مقبوضہ بیت المقدس،انقرہ،برلن،بگوٹا(آئی ین پی )اسرائیلی فوج نے غزہ امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ کرکے سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت 200 افراد کو گرفتار کرلیا ، قافلے کے گرفتار ارکان نے اسرائیلی فوج کی جانب سے فراہم کردہ کھانا قبول کرنے سے انکار کر دیا ،اسرائیلی  کارروائیوں   کیخلاف دنیا بھر میں سخت ردعمل سامنے آیاہے،مختلف ممالک میں احتجاجی مظاہر ے  کئے گئے ہیں، کولمبیا کے صدر نے اسرائیلی سفارتی عملے کو ملک بدر کرنے کے ساتھ ساتھ 'آزاد تجارتی معاہدہ ختم' کرنے کا بھی اعلان کر دیا۔غیرملکی میڈیارپورٹس یک مطابق ترجمان گلوبل صمود فلوٹیلا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج نے فلوٹیلا میں شامل 37 ممالک کے 200 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے جن میں سپین کے 30 شرکا، اٹلی کے 22، ترکی کے 21 اور ملائیشیا کے 12 شامل تھے۔انہوں نے کہا کہ گرفتاریوں کے باوجود گروپ کا مشن جاری ہے، اور جہاز اب بھی بحیرہ روم کے راستے غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لئے رواں دواں ہیں، ہمارے پاس تقریبا 30 جہاز ہیں جو اب بھی قابض افواج کے فوجی جہازوں سے بچتے ہوئے غزہ کے ساحل تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔قبل ازیں قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق گلوبل صمود فلوٹیلا کے ایک جہاز الما سے براہِ راست مناظر میں دکھایا گیا ہے کہ فلوٹیلا کے اراکین مداخلت کے انتظار میں بیٹھے ہیں، الما پر انسانی حقوق کے کارکن لائف جیکٹس پہنے ہوئے ہیں۔   اسرائیلی حملے اور کارکنوں کو  حراست میں لینے کے بعد گلوبل صمود فلوٹیلا  نے فلسطین کے حامیوں کو احتجاج کی کال دیدی۔گلوبل صمود فلوٹیلا نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ ان کے قافلے پر اسرائیل کے حملے شروع ہوچکے ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیل کو رد عمل دیا جائے۔گلوبل صمود فلوٹیلا نے مطالبہ کیا کہ سفارتخانوں، پارلیمان  کے سامنے مظاہرے کئے جائیں تاکہ فلسطین کے حق میں عالمی دبا بڑھایا جا سکے۔فلوٹیلا کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ ان کمپنیوں کے سامنے بھی مظاہرے کیے جائیں  جو فلسطینیوں کی نسل کشی میں اسرائیل کیساتھ ملوث ہیں۔  اسرائیل کی طرف سے ان کارروائیوں کے بعد شدید بین الاقوامی ردِ عمل سامنے آیا۔