وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی کی زیرِ صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں ٹرینوں کی مسلسل تاخیر پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا اور حکام کو 10 دن کے اندر تاخیر کی وجوہات دور کرنے کا الٹی میٹم دے دیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ گزشتہ روز متعدد ٹرینیں شیڈول کے مطابق روانہ نہیں ہو سکیں، جس کی بڑی وجوہات پاور پلانٹس کے لیٹ آنے اور تکنیکی خرابیاں ہیں۔ وزیرِ ریلوے نے تمام ڈویژنز اور ہیڈکوارٹرز کو سخت ہدایت جاری کی کہ تاخیری نظام کی خامیوں کو فوری دور کیا جائے اور ٹرینوں کے اوقات کار معمول پر لائے جائیں۔محمد حنیف عباسی نے کہا کہ ریلوے کی جدیدیت، ڈیجیٹل تبدیلی، پنکچوئیلٹی، سہولت اور شفافیت اولین ترجیح ہیں۔ مسافروں کو وقت پر اپنی منزل تک پہنچانے، اسٹیشنز کو صاف ستھرا رکھنے اور بہتر سفری سہولیات فراہم کرنا ریلوے کی بحالی کے لیے ناگزیر ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ جب تک مسافر وقت پر اپنے مقاصد حاصل نہیں کریں گے، ریلوے مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکتا۔ وزیرِ ریلوے نے اس موقع پر ریلوے کی اپ گریڈیشن اور ڈیجیٹل تبدیلی کے ساتھ ساتھ بروقت روانگی کو یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا اور کہا کہ پنکچوئیلٹی اور سہولت ریلوے کی نئی سمت ہوگی۔