سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں حالیہ اجلاس میں بڑے انکشافات اور اہم معاملوں پر بات چیت ہوئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ایک کے بجائے چار سینیٹرز کو ہیکرز اور فراڈیوں نے نشانہ بنایا، جنہوں نے سینیٹرز کے منقولہ ڈیٹا اور پیسے لوٹے۔ سینیٹرز سیف اللہ ابڑو، فلک ناز چترالی، دلاور خان اور بلال خان مندوخیل کو آن لائن فراڈ کا سامنا کرنا پڑا، جن میں ہیکرز نے کال کے ذریعے مکمل معلومات حاصل کرکے لاکھوں روپے ہتھیائے۔اجلاس کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ این سی سی آئی اے کے کرپشن اور ڈیٹا لیک کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔ ڈی جی این سی سی آئی اے نے بتایا کہ تین ماہ کے اندر نیا عملہ لایا جائے گا اور ادارہ بہتر بنایا جائے گا، کیونکہ موجودہ نظام میں شکایات کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہو رہی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادارہ مکمل طور پر چھ ماہ میں نئی ٹیم کے ساتھ بہتر ہو جائے گا۔دریں اثنا، شہریوں کے حساس ڈیٹا کے لیک ہونے کا معاملہ بھی کمیٹی کے سامنے آیا۔ ڈی جی این سی سی آئی اے کے مطابق، اس سلسلے میں متعدد مقدمات درج کیے گئے ہیں اور 851 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ مل کر آڈٹ کا عمل جاری ہے، اور تین ماہ کے اندر مسئلہ حل کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ تاہم، وزیر داخلہ کی جانب سے بنائی گئی تفتیشی کمیٹی کا کوئی علم نہ ہونے پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔مزید برآں، سینیٹر محمد اسلم ابڑو کے بھائی اور بھتیجے کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر کمیٹی میں برہمی کا اظہار کیا گیا۔ چیئرمین نے آئی جی سندھ اور آئی جی بلوچستان کو سخت نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ آئندہ بھی کمیٹی میں شریک نہ ہوئے تو سینیٹرز مشترکہ فیصلہ کریں گے۔ ساتھ ہی، سینیٹرز اسلم ابڑو اور سیف اللہ ابڑو کو فوری سیکیورٹی فراہم کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔