قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اجلاس میں تلخ جملوں کا تبادلہ

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اجلاس میں تلخ جملوں کا تبادلہ

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا اجلاس اس وقت ہنگامہ خیز صورتِ حال اختیار کر گیا جب اجلاس میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے معاملات پر بحث کے دوران اراکین کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔

اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی ثناء اللّٰہ مستی خیل نے کی، جس میں پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا، رکن قومی اسمبلی مہرین رزاق بھٹو، خواجہ اظہار الحسن اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کے عہدیداران شریک ہوئے۔اجلاس میں اس وقت گرما گرمی پیدا ہوئی جب شہلا رضا نے ہاکی فیڈریشن کے عہدیداران پر سنگین الزامات لگائے اور فیڈریشن کے معاملات میں بدعنوانی اور بدنظمی کی نشاندہی کی۔ الزامات پر خواجہ اظہار الحسن اور سیکریٹری جنرل ہاکی فیڈریشن رانا مجاہد نے وضاحت دینے کی کوشش کی تو صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی اور تلخ جملوں کا تبادلہ شروع ہوگیا۔اسی دوران کمیٹی کی رکن مہرین رزاق بھٹو نے احتجاجاً اجلاس سے واک آؤٹ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی میں ذاتی ایجنڈے چلائے جا رہے ہیں، چیخ و پکار ہو رہی ہے، ایسے ماحول میں اجلاس میں بیٹھنا ممکن نہیں۔

ان کے واک آؤٹ پر چیئرمین کمیٹی ثناء اللّٰہ مستی خیل نے مہرین رزاق کو واپس اجلاس میں بلایا اور خود اٹھ کر انہیں ان کی نشست پر بٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی ممبران کے ساتھ ہمارا احترام کا رشتہ ہے، ہمیں تلخیوں کو بڑھانے کے بجائے کم کرنا چاہیے۔ثناء اللّٰہ مستی خیل نے اجلاس کے دوران اعلان کیا کہ ہاکی فیڈریشن کے معاملات کی شفاف تحقیقات کے لیے کمیٹی دوبارہ تشکیل دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جس جس نے ہاکی کے نام پر ایک روپیہ بھی ہڑپ کیا ہے، اسے واپس لایا جائے گا۔یوں اجلاس ہنگامہ خیز ماحول کے باوجود اس عزم کے ساتھ ختم ہوا کہ قومی کھیل ہاکی کے معاملات میں بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی اور جوابدہی یقینی بنائی جائے گی۔