5 پولنگ سٹیشنز پر بم کی افواہیں،دھمکیوں کے باعث دو مقامات ووٹنگ میں تاخیر ہوئی
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)47ویں امریکی صدر کے انتخاب کیلئے پولنگ وقت ختم ہو گیا۔ ووٹوں کی گنتی جاری ہے ۔ووٹنگ سے پہلے ہی کملا ہیرس اور ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے دعوے کردیے۔ووٹنگ شروع ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر بیان میں کملا ہیرس کا کہنا تھا کہ امریکا، یہ آپ کی آوازسنانے کا لمحہ ہے۔اسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ نے ووٹرز سے کہا کہ یہ باہر نکلنے، ووٹ ڈالنے کا وقت ہے، ایک ساتھ مل کر امریکا کو دوبارہ عظیم بنا سکتے ہیں۔امریکی نائب صدر کیلئے ری پبلکن امیدوار جیڈی وینس نے اوہائیو میں ووٹ کاسٹ کیا۔پولنگ کے دوران امریکی ریاست جارجیا کی فلٹن کاونٹی کے 5 پولنگ اسٹیشنز پر بم کی افواہیں سامنے آئیں۔دھمکیوں کے باعث دو مقامات سے ووٹرز کے انخلا پر ووٹنگ کے عمل میں تاخیر ہوئی، ان پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ عارضی بندش کے بعد ووٹنگ کا عمل پھر سے بحال ہوگیا۔امریکی ریاست مشی گن کے علاقے نارتھ ول میں گیس لیکج کے باعث پولنگ اسٹیشن بند کردیا گیا۔اس موقع پر ووٹرز کو دوسرے پولنگ اسٹیشن بھیج دیا گیا ہے۔امریکی انتخابات کے دوران واشنگٹن سے ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔پولیس نے گرفتار شخص کے قبضے سے فلیئر گن برآمد کی ہے جس کے بعد تحقیقات کی جارہی ہیں۔پنسلوینیا کی کیمبریا کاؤنٹی میں ووٹنگ کے دوران الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم میں تکنیکی مسائل سامنے آئے۔سافٹ ویئر کے مسائل نے ووٹنگ سکینرز کو متاثر کیا، میڈیا رپورٹ کے مطابق تاخیر کی وجہ سے ووٹنگ کے وقت میں توسیع کر دی گئی ہے۔صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ منصفانہ ا نتخابات ہوئے تو وہ شکست تسلیم کریں گے۔انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ الیکشن منصفانہ ہوئے اور میں ہار گیا تو اسے تسلیم کرنے والا پہلا شخص ہوں گا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اب تک میرے خیال میں الیکشن منصفانہ ہے۔ٹرمپ نے فلوریڈا میں ووٹ کاسٹ کیا۔امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں ووٹ کاسٹ کیا، انہوں نے فلوریڈا کے علاقے پام بیچ کے پولنگ اسٹیشن پر ووٹ ڈالا، ٹرمپ کے ساتھ ان کی اہلیہ اور بچے بھی آئے۔دوسری جانب ڈیموکریٹ کی صدارتی امیدوار کملا ہیرس بذریعہ پوسٹل بیلٹ ایک ہفتہ پہلے ووٹ ڈال چکی ہیں۔صدارتی امیدوار کملا ہیرس بذریعہ پوسٹل بیلٹ ایک ہفتہ پہلے ووٹ ڈال چکی ہیں۔انہوں نے فون بینک میں کام کرنے والے پارٹی ورکرز سے ملاقات کی اور ان کی محنت کو خوب سراہا۔کملا ہیرس نے فون بینک سے ووٹر کو خود کال کی اور کہا ’ کیا آپ نے ووٹ کاسٹ کرلیا ؟، اگر ووٹ کاسٹ کردیا تو آپ کا شکریہ۔‘امریکا کی پانسہ پلٹنے والی تمام سات ریاستوں میں پولنگ جاری ہے۔ ۔سات کروڑ 89 لاکھ افراد پہلے ہی ووٹ کاسٹ کرچکے ہیں، کسی بھی امیدوار کو جیت کیلیے کل 538 میں سے کم از کم 270 الیکٹورل ووٹ درکار ہوں گے۔ پانسہ پلٹنے والی سات ریاستیں کسی امیدوار کی کامیابی میں فیصلہ کن ہوں گی۔6 مختلف ٹائم زون کے باعث مختلف امریکی ریاستوں میں پولنگ کا آغاز اور اختتام الگ الگ وقتوں پر ہوا۔انڈیانا اور کینٹکی میں پولنگ پاکستانی وقت کے مطابق صبح 4 بجے ختم ہو ئی۔ہوائی،الاسکا، کئی مغربی ریاستوں میں پولنگ پاکستانی وقت کیمطابق صبح 5 بجے ختم ہو ئی۔جارجیا اور نیوکیرولائنا میں پولنگ پاکستانی وقت کیمطابق صبح 6 سے7 بجے کے درمیان ختم ہو ئی۔مشی گن، پنسلوینیا، وسکونسن میں ووٹنگ پاکستانی وقت کے مطابق صبح7 سے8 بجے کے درمیان ختم ، آخر میں الاسکا میں پاکستانی وقت کیمطابق صبح 11 بجے پولنگ ختم ہوئی۔الاباما، ڈیلاویئر، واشنگٹن ڈی سی، فلوریڈا، جارجیا، الینوائے، کنساس، میری لینڈ، میساچیوسٹس، مشی گن، مزوری، پنسلوانیا، روڈ آئی لینڈ، ساؤتھ کیرولائنا، ٹینیسی، ورمونٹ، نارتھ کیرولائنا، اوہائیو، ویسٹ ورجینیا، نیو یارک، نیو جرسی، نیو ہیمپشائر، کنیٹیکٹ اور مغربی ریاستوں کیلیفورنیا، اِڈاہو، نیواڈا اور اوریگن سمیت تمام ریاستوں میں گنتی جاری ہے۔غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکی ریاست نیو ہیمپشائر کے چھوٹے قصبے ڈکس وِل نوچ میں انتخابات کا آغاز رات گئے ہی ہو گیا تھا، یہ عمل مختصر وقت میں مکمل ہونے کے بعد ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی بھی مکمل ہو گئی۔اس قصبے سے صدر کے انتخاب کے لیے کْل 6 ووٹ ڈالے گئے جن میں سے 3 ڈیموکریٹک اور 3 ری پبلیکن کے حق میں تھے۔میڈیا کی رپورٹس کے مطابق نیو ہیمپشائر کا قصبہ ڈکس وِل نوچ شمال میں امریکا اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے، جس کا شمار امریکا کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں سے انتخابی دن کا آغاز ہوتا ہے۔امریکی صدارتی انتخاب کے دوران جعلی خبروں اور سوشل میڈیا پوسٹس کی روک تھام کیلئے امریکی حکام سرگرم ہوگئے۔ایف بی آئی کا الیکشن کمانڈ سیل جعلی مواد روکنے کیلئے نگرانی کررہا ہے جبکہ سائبر سیکیورٹی اور انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی سی آئی ایس اے بھی سرگرم ہے۔امریکی ایجنسی کا غلط معلومات کی شناخت اور روک تھام کیلئے افواہ کنٹرول ویب پیج افواہوں کی وضاحت کرتا ہے۔امریکی محکمہ انصاف ڈی او جے بھی غلط معلومات کی تشہیر روکنے کیلئے فعال ہے۔امریکی ادارے معتبر نیوز آرگنائزیشنز کے ساتھ مل کر غیر معیاری معلومات روکنے کیلئے کوشاں ہیں۔امریکا میں صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ شروع ہوتے ہی صدارتی امیدوار ٹرمپ کی سوشل میڈیا کمپنی کے شیئرز کی قیمت بڑھ گئی۔