امریکہ میں مڈٹرم انتخابات‘پولنگ شروع‘پاکستانی نژاد شہری بھی امیدوار کیلیفورنیا میں متنازعہ ووٹوں کی گنتی روکنے کیلئے حکومتی درخواست مسترد

ٹرمپ کی دو سالہ کارکردگی کا امتحان  ہوگا‘صدر کی مخالف جماعت ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کیلئے تین اور سینیٹ میں چار نشستیں حاصل کرنا ہوں گی
ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے‘ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح اپنی کم ترین سطح کے قریب ہے:میڈیا رپورٹس
واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے لیے ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر پولنگ کا آغاز ہوگیا۔ سب سے پہلے ریاست ورمونٹ میں مقامی وقت کے مطابق پولنگ کا آغاز صبح 5 بجے ہوا۔نیو ہیمپشائر، نیو جرسی، نیو یارک اور ورجینیا میں پولنگ اسٹیشنز مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے کھلے، الاسکا اور واشنگٹن میں آخری پولنگ اسٹیشنز صبح 11 بجے کھلے جبکہ ہوائی میں دوپہر 12 بجے ووٹنگ شروع ہوئی ۔ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہیں، جبکہ سینیٹ کا کنٹرول غیر یقینی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح اپنی کم ترین سطح کے قریب ہے اور ایران کے ساتھ جنگ، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور مہنگائی ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کی اہم وجوہات ہیں۔ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کے لیے تین اور سینیٹ میں چار نشستیں حاصل کرنا ہوں گی۔کامیابی کی صورت میں ڈیموکریٹس ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف تحقیقات اور صدر کی اہم نامزدگیوں کو روکنے کا اختیار حاصل کرسکتے ہیں۔ مختلف ریاستوں میں پاکستانی نژاد امریکی امیدوار بھی انتخابی میدان میں اتر ے ہیں‘ انتخابی فہرستوں کے مطابق مریم خان اور سعود انور ریاست کنیکٹیکٹ کی سینیٹ کی نشستوں پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔ٹیکساس میں سلمان بھوجانی اور سلیمان لالانی بالترتیب ڈسٹرکٹ 92 اور ڈسٹرکٹ 76 سے ریاستی ایوانِ نمائندگان کی نشستوں پر دوبارہ انتخاب لڑ رہے ہیں۔فاروق مغل ریاست جارجیا کی قانون ساز اسمبلی کی 1 نشست کے لیے امیدوار ہیں، جبکہ طارق خان پنسلوانیا میں انتخابی مقابلے میں حصہ لے رہے ہیں۔اسی طرح ہنادی ندیم ریاست نیواڈا کی اسمبلی کی نشست حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔فلوریڈا میں امتیاز محمد ری پبلکن پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ بعض ووٹرز امریکی شہری نہیں ہیں جس کے باعث ان کے ووٹوں کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔