یو اے ای پر دوسرے روز بھی میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ، ایران نے الزامات مسترد کر دیے

یو اے ای پر دوسرے روز بھی میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ، ایران نے الزامات مسترد کر دیے

متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے، جہاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے الزامات کو سختی سے مسترد یا دہرایا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے مطابق ملک پر مسلسل دوسرے روز بھی میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے، جن کا الزام ایران پر عائد کیا گیا ہے۔ تاہم ایران نے ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں اس کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی نہیں کی گئی۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اگر ایران کوئی کارروائی کرتا تو اس کا باقاعدہ اعلان کیا جاتا، اس لیے اماراتی دعوے بے بنیاد ہیں۔ دوسری جانب اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ تازہ حملے سے قبل بھی ڈرون حملوں میں کم از کم تین افراد زخمی ہوئے تھے، جبکہ فجیرہ کے آئل تنصیب میں آگ لگنے کا واقعہ بھی پیش آیا تھا۔یہ صورتحال ایسے وقت میں مزید سنگین ہو رہی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی پہلے ہی بلند سطح پر ہے۔ آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اس بحران کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔

 عالمی تیل اور گیس کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈی پر فوری اثر ڈالتی ہے۔ماہرین کے مطابق حالیہ کشیدگی کے باعث تجارتی جہاز رانی اور توانائی کی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے، جس سے عالمی سطح پر معاشی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ امریکا کی جانب سے بحری ناکہ بندی اور سیکیورٹی اقدامات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔مجموعی طور پر خطے میں جاری یہ تناؤ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو کشیدگی کسی بڑے بحران میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔