صنعا: حوثی جنگجوؤں نے یمن کے مغربی ساحل کے آبادی والے علاقوں اور فوجی تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم حملوں کے نتیجے میں جانی یا مالی نقصان کی فوری طور پر کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کے مطابق یمنی مسلح افواج کے میڈیا سینٹر نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ حوثیوں کی جانب سے مجموعی طور پر 14 بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔فوجی ذریعے کے مطابق طائز کے محاذ پر تعینات فضائی دفاعی نظام نے متعدد ڈرونز کو فضا میں ہی روک لیا، جبکہ یمن کے مغربی ساحل کے مختلف علاقوں کے اوپر بھی بعض ڈرونز کو ناکام بنایا گیا۔رپورٹ کے مطابق حوثیوں کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائل مغربی ساحل پر موجود فوجی دستوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ فوجی ذریعے نے دعویٰ کیا کہ دفاعی نظام نے میزائل حملوں کے ممکنہ اہداف کو محفوظ رکھنے میں کردار ادا کیا۔تاحال ان حملوں کے نتیجے میں کسی جانی نقصان، زخمیوں یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔
بحیرہ احمر میں کشیدہ صورتحال
یہ حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یمن کے مغربی ساحل اور بحیرہ احمر کے اطراف سکیورٹی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ اس علاقے میں میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث نہ صرف ساحلی علاقوں میں سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ بحری جہازوں اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی خطرات لاحق ہیں۔بحیرہ احمر عالمی تجارت کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے، جہاں کسی بھی بڑے سکیورٹی واقعے کے نتیجے میں تجارتی جہازوں کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات، متبادل راستوں اور زیادہ سفری اخراجات کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔یمن کے مغربی ساحل کی جغرافیائی اہمیت بھی اس صورتحال کو مزید حساس بناتی ہے، کیونکہ یہ علاقہ بحیرہ احمر کے قریب واقع ہے اور یہاں کسی بھی عسکری کشیدگی کے اثرات خطے کی بحری سکیورٹی تک پھیل سکتے ہیں۔
حوثیوں اور ان کے مخالف فریقوں کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں ڈرون اور میزائل حملوں کا سلسلہ خطے میں پہلے سے موجود سکیورٹی خطرات میں مزید اضافہ کرسکتا ہے۔تاہم حالیہ حملوں کے اہداف، نقصان کی اصل نوعیت اور حملوں میں استعمال ہونے والے تمام ہتھیاروں کی آزادانہ طور پر تصدیق ہونا باقی ہے۔