وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام: درخواست دہندگان کے لیے اہم اطلاع جاری

وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام: درخواست دہندگان کے لیے اہم اطلاع جاری

وفاقی حکومت نے کم اور متوسط آمدن والے طبقے کو گھر کی سہولت دینے کے لیے وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کو مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے، اور اسی مقصد کے تحت 5 لاکھ ہاؤسنگ لونز کے بڑے ہدف کے حصول کے لیے ملٹی چینل اپروچ پر سنجیدگی سے غور جاری ہے۔

اس حوالے سے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کا اہم اجلاس وفاقی وزیر خزانہ   کی زیر صدارت اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں متعدد ترقیاتی منصوبوں، ضمنی گرانٹس اور ہاؤسنگ فنانس ماڈل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم کے حال ہی میں لانچ کیے گئے "وزیراعظم اپنا گھر پروگرام" کی نئی حکمت عملی پر غور کیا گیا، جس کے تحت آئندہ پانچ برسوں میں ملک بھر میں 5 لاکھ گھروں کی تعمیر اور فنانسنگ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت اس مقصد کے لیے صرف روایتی بینکنگ چینل پر انحصار نہیں کرنا چاہتی بلکہ کمرشل بینکوں، اسلامی بینکوں، مائیکروفنانس اداروں، ہاؤسنگ فنانس کمپنیوں اور اسٹیٹ بینک کے رسک شیئرنگ ماڈل کو بیک وقت استعمال کرنے کی تجویز زیر بحث ہے تاکہ قرضوں کی رسائی تیز اور وسیع ہو سکے۔حکومتی دستاویزات کے مطابق اس پروگرام کے تحت کم آمدنی والے خاندانوں کو ایک کروڑ روپے تک ہاؤسنگ لون فراہم کیا جائے گا، جس پر ابتدائی دس سال کے لیے صرف 5 فیصد مارک اپ رکھا گیا ہے، جبکہ ادائیگی کی مدت 20 سال تک ہوگی۔ پہلے مرحلے میں 50 ہزار گھروں کے لیے 321 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ مجموعی پروگرام کا حجم تقریباً 3.2 کھرب روپے بتایا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں صرف ہاؤسنگ ہی نہیں بلکہ دیگر اہم مالی امور بھی زیر غور آئے، جن میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 10 کروڑ روپے کی ضمنی گرانٹ، نارووال میں کمپلیکس اور دانش اسکول کُری اسلام آباد کے لیے 35 کروڑ روپے، یوم آزادی و معرکہ حق تقریبات کے لیے تقریباً 5 کروڑ 96 لاکھ روپے، وزیراعظم آفس کے لیے 47 کروڑ 90 لاکھ روپے اور جدید پاسپورٹ سسٹم کے لیے 2 ارب 50 کروڑ روپے کی گرانٹس کی تجاویز بھی شامل تھیں۔اجلاس میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ سے متعلق پالیسی کے دوسرے مرحلے، داخلہ ڈویژن کی مختلف فنڈنگ سمریوں اور نیشنل اسٹیل کمپلیکس کی بحالی کے لیے گیس فراہمی کے امور پر بھی بریفنگ دی گئی، جبکہ توانائی اور صنعتی شعبے سے متعلق متعدد فیصلوں پر متعلقہ حکام کو مزید پیش رفت کی ہدایات جاری کی گئیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے ملٹی چینل اپروچ اس لیے زیر غور لائی جا رہی ہے کیونکہ اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق ابتدائی عوامی دلچسپی بہت زیادہ ہے، مگر قرضوں کی منظوری اور بینک پراسیسنگ کی رفتار ابھی سست ہے۔ آن لائن عوامی فورمز پر بھی کئی درخواست گزاروں نے بینکنگ پراسیس کو پیچیدہ اور وقت طلب قرار دیا ہے، جس کے بعد حکومت قرضوں کی تقسیم کا عمل تیز کرنے کے لیے متبادل راستے تلاش کر رہی ہے۔

یوں واضح ہو رہا ہے کہ وفاقی حکومت وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کو صرف ایک اعلانیہ اسکیم نہیں بلکہ بڑے معاشی محرک منصوبے کے طور پر دیکھ رہی ہے، جس کے ذریعے ایک طرف لاکھوں خاندانوں کو اپنی چھت دینے کا ہدف ہے تو دوسری طرف تعمیراتی صنعت، سیمنٹ، اسٹیل، الیکٹریکل، لکڑی اور روزگار کے کئی شعبوں کو متحرک کرنا بھی مقصود ہے۔