صبح سویرے سورج کی سنہری روشنی نے لاہور کو روشن تو کر دیا، مگر دن چڑھتے ہی گرمی کی شدت میں اضافے کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔
شہر کا موجودہ درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ہوا میں نمی 45 سے 49 فیصد کے درمیان رہی اور ہلکی رفتار سے ہوائیں چلتی رہیں جن کی رفتار تقریباً 4 کلو میٹر فی گھنٹہ نوٹ کی گئی۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج لاہور میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے۔ دن کے اوقات میں سورج پوری آب و تاب کے ساتھ چمکے گا اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35 سے 36 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے، جبکہ کم سے کم درجہ حرارت 23 سے 24 ڈگری کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ محکمہ موسمیات نے واضح کیا ہے کہ آج شہر میں بارش کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں، اس لیے شہریوں کو تیز دھوپ اور خشک گرم فضا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ہوا میں نمی اگرچہ صبح کے وقت نسبتاً زیادہ محسوس ہوئی، تاہم دوپہر تک اس میں کمی آئے گی جس کے باعث گرمی کی شدت مزید محسوس ہو سکتی ہے۔ شہری حلقوں میں بھی موسم کے اچانک بدلتے تیور زیر بحث ہیں، اور کئی لاہور یوں کا کہنا ہے کہ اس سال گرمی نے معمول سے پہلے ہی اپنے پنجے گاڑ دیے ہیں۔
دوسری جانب ماحولیاتی صورتحال خاصی تشویشناک ہے کیونکہ لاہور ایک بار پھر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست آ گیا ہے۔ شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس 191 سے 192 ریکارڈ کیا گیا ہے، جو "Unhealthy" یعنی صحت کے لیے مضر درجے میں شمار ہوتا ہے۔ فضا میں موجود باریک آلودہ ذرات PM2.5 کی مقدار معمول سے کئی گنا زیادہ نوٹ کی گئی ہے، جس کے باعث سانس، الرجی، آنکھوں میں جلن اور گلے کی تکالیف میں اضافے کا خدشہ ہے۔ماہرین نے شہریوں، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور سانس کے مریضوں کو غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز، ماسک کے استعمال اور پانی زیادہ پینے کی ہدایت کی ہے۔ یوں لاہور میں آج کا دن ایک طرف تیز دھوپ اور بڑھتی گرمی کا پیغام دے رہا ہے تو دوسری طرف آلودہ فضا شہریوں کے لیے صحت کا خاموش خطرہ بن چکی ہے۔