جسٹس منصور علی شاہ کا سینیارٹی بغیر مشاورت طے کرنے پر صدر مملکت کے اقدام پر اعتراض

جسٹس منصور علی شاہ کا سینیارٹی بغیر مشاورت طے کرنے پر صدر مملکت کے اقدام پر اعتراض

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے معزز جج جسٹس منصور علی شاہ نے ججز کی سینیارٹی کے تعین پر بغیر مشاورت فیصلہ کیے جانے پر سنجیدہ اعتراضات اٹھا دیے ہیں۔

 ذرائع کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے اس حوالے سے 30 جون کو سیکریٹری جوڈیشل کمیشن کو ایک باضابطہ خط بھی ارسال کیا ہے۔خط کے متن کے مطابق، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ججز کی سینیارٹی طے کرنے سے قبل چیف جسٹس آف پاکستان سے مشاورت کے پابند تھے، اور ایسا نہ کرنا آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔انہوں نے زور دیا کہ آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت سینیارٹی کے معاملے میں صدر مملکت پر مشاورت لازم تھی، لیکن صدر نے مشاورت کے بغیر جلد بازی میں خود ہی سینیارٹی طے کر دی، جو نہ صرف قانونی سوالات کو جنم دیتا ہے بلکہ عدالتی خودمختاری پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ کے خط میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ سینیارٹی کا یہ معاملہ اس وقت ایک انٹرا کورٹ اپیل میں بھی زیر سماعت ہے، اس لیے یکطرفہ اقدام نہ صرف عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہو سکتا ہے بلکہ ایک متنازعہ مثال بھی قائم کر سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق اس اقدام نے اعلیٰ عدلیہ میں مشاورت کے عمل، آئینی تقاضوں اور ججز کی تقرری و تبادلے سے متعلق امور پر بحث کو مزید تیز کر دیا ہے، اور اس معاملے پر ممکنہ طور پر جوڈیشل کمیشن میں مزید غور ہونے کا امکان ہے۔