جنوبی افریقی فاسٹ بولر کاگیسو ربادا کو ممنوعہ ادویات کے استعمال (ڈوپنگ) کے الزام میں ایک ماہ کی معطلی کے بعد دوبارہ کرکٹ کھیلنے کی اجازت مل گئی ہے۔
ربادا اب انڈین پریمیئر لیگ (IPL) میں اپنی ٹیم گجرات ٹائٹنز کی نمائندگی کے لیے دستیاب ہوں گے۔
پس منظر:
کاگیسو ربادا کا ڈوپ ٹیسٹ جنوری میں جنوبی افریقہ کی ایس اے 20 لیگ کے دوران مثبت آیا تھا۔ اس ٹیسٹ میں ان کے جسم میں ممنوعہ ادویات کی موجودگی کی تصدیق ہوئی، جس کے بعد جنوبی افریقہ کے ڈرگ فری اسپورٹس بورڈ (SAIDS) نے معاملے کی تحقیقات شروع کیں۔
معطلی اور واپسی:
یکم اپریل کو، جب ربادا IPL میں گجرات ٹائٹنز کے لیے کھیل رہے تھے، اس وقت ان پر باقاعدہ پابندی عائد کی گئی۔3 اپریل کو وہ بھارت سے واپس جنوبی افریقہ روانہ ہو گئے۔ابتدائی طور پر یہ پابندی 3 ماہ کے لیے تھی، تاہم بورڈ نے مختلف عوامل، بالخصوص ربادا کے اصلاحی پروگرامز میں شرکت اور ممنوعہ اجزا سے پرہیز کی رضامندی کو مدنظر رکھتے ہوئے سزا کو صرف ایک ماہ تک محدود کر دیا۔اب وہ پابندی مکمل کر چکے ہیں اور منگل کو ممبئی انڈینز کے خلاف اہم میچ کے لیے دستیاب ہوں گے۔
اصلاحی اقدامات:
جنوبی افریقہ کے ڈرگ فری اسپورٹس بورڈ نے ایک اعلامیہ میں واضح کیا ہے کہ ربادا نے اپنے معطلی کے دوران:ڈوپنگ سے متعلق آگاہی پروگرامز میں شرکت کی،
اصلاحی تربیت مکمل کی،اور ممنوعہ ادویات سے دور رہنے کا عہد کیا۔
کرکٹ کمیونٹی کا ردعمل:
ربادا کے مداحوں اور کرکٹ تجزیہ کاروں نے ان کی واپسی کو خوش آئند قرار دیا ہے، جبکہ کچھ حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ اتنی جلدی سزا میں نرمی کرنا کیا درست فیصلہ تھا یا نہیں۔ربادا کی واپسی سے گجرات ٹائٹنز کی بولنگ لائن اپ کو ایک بار پھر مضبوطی ملے گی، خاص طور پر آئی پی ایل کے اہم مراحل میں۔