ٹرمپ کی نئی سفری پابندیاں، پاکستانی اور افغان باشندوں کا امریکا میں داخلہ متاثر ہونے کا خدشہ

ٹرمپ کی نئی سفری پابندیاں، پاکستانی اور افغان باشندوں کا امریکا میں داخلہ متاثر ہونے کا خدشہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سفری پابندیوں کا اعلان ایک اہم اور پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے جس کا اثر افغانستان اور پاکستان سمیت کچھ دوسرے ممالک پر پڑ سکتا ہے۔

یہ پابندیاں 20 جنوری 2025 کو امریکی صدر کی جانب سے جاری کیے گئے ایگزیکٹیو آرڈر کے تحت ممکن ہو سکتی ہیں، جس میں امریکی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے آنے والے افراد کی جانچ پڑتال میں سختی لانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔اس ایگزیکٹیو آرڈر کا مقصد ایسے ممالک کی شناخت کرنا ہے جن میں سیکیورٹی اور جانچ پڑتال کے نظام میں کمزوریاں ہیں۔ ان ممالک کی فہرست تیار کرنے کے بعد ان پر جزوی یا مکمل سفری پابندیاں عائد کرنے کی تجویز دی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان اور پاکستان ان ممالک میں شامل ہو سکتے ہیں جن پر یہ پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔یہ پابندیاں ان افراد کے لیے بھی پریشانی کا سبب بن سکتی ہیں جنہوں نے امریکی فوج کے ساتھ کام کیا ہے یا جو پناہ گزین یا خصوصی ویزوں پر امریکا میں بسنے کے لیے اہل قرار پائے ہیں۔

ان میں وہ افغان شہری شامل ہیں جو طالبان کے انتقام سے بچنے کے لیے امریکا میں پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان افراد کو، جن میں امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والے افغان شہری بھی شامل ہیں، امریکی حکومت کی جانب سے پناہ دی جانے کا عمل جاری تھا، مگر نئی پابندیاں ان کی امریکا آمد میں رکاوٹ ڈال سکتی ہیں۔امریکی انتظامیہ کا یہ جائزہ لینے کا عمل اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ امریکا میں داخل ہونے والے افراد کی مکمل جانچ پڑتال ہو، تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات یا اقدامات کی اطلاع جلد متوقع ہے، جو کہ امریکا کے سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی کے لیے ایک اہم فیصلہ ہو گا۔