اسلام آباد:وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان نے اپنی بین الاقوامی ذمہ داری بخوبی پوری کی ہے، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کی زیر قیادت جنگ دہشت گردی کے خلاف نہیں تھی، بلکہ یہ ایک عالمی ذمہ داری تھی جس میں پاکستان نے ایک دہشت گرد کو گرفتار کر کے امریکا کے حوالے کیا تھا۔خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کیا ہے اور دہشت گردوں کی دراندازی میں امریکی اسلحے کا بڑا کردار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ افغانستان میں امریکی اسلحہ چھوڑنا ایک غلط فیصلہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہے اور اس جنگ میں سب کو اپنے حصہ کی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ایک سوال کے جواب میں، خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کے ساتھ مفاہمت کی سیاست کے حوالے سے کہا کہ پی ٹی آئی نے پہلے ہی اسلام آباد پر تین چار حملے کیے ہیں اور اب عید کے بعد مزید حملوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مفاہمت کی سیاست اُس وقت ہوتی ہے جب دوسرا فریق حملہ آور نہ ہو، اور حملہ آور کے ساتھ مزاحمت کی سیاست کرنی چاہیے۔
جب صحافی نے خیبرپختونخوا حکومت کے موقف پر سوال کیا کہ وفاق ان کے ساتھ تعاون نہیں کر رہا، تو خواجہ آصف نے کہا کہ خیبرپختونخوا خود بھی اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی دہشت گردی کے خلاف کارکردگی صفر ہے اور وہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے اقتدار کے معاملے میں ملوث ہیں۔ وفاق ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے، مگر خیبرپختونخوا کی حکومت کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خط لکھنے کی بات کی ہے، مگر وہ خط بازی اب کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ جو خطوط پہلے لکھے گئے، ان کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا تھا، اور اب یہ خطوط بھی اسی طرح بے اثر ہوں گے۔ایک اور سوال کے جواب میں، خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان کو سیاسی مشورے دینے کی ضرورت نہیں، وہ جادو منتر کے مشورے لے سکتے ہیں مگر سیاسی مشورہ نہیں دیا جا سکتا۔