سابق وکٹ کیپر بیٹر عتیق الزماں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے اہم کھلاڑی شاہین شاہ آفریدی، بابراعظم اور محمد رضوان کے مستقبل پر اہم تبصرے کیے ہیں۔
ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 10ویں ایڈیشن کے فوراً بعد بنگلادیش کے خلاف ٹی20 سیریز میں نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینا اس بات کا اشارہ ہے کہ تینوں کھلاڑیوں کی مختصر فارمیٹ میں واپسی مشکل نظر آتی ہے۔عتیق الزماں نے محمد رضوان کو ٹیم سے باہر کرنے پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستانی ٹیم کی روایت ہے کہ کپتان بننے کے بعد کھلاڑی ٹیم سے ڈراپ ہو جاتا ہے، اور عموماً ایسے کھلاڑی کو ٹیم سے نکالنا ہو تو قیادت کا تاج اس کے سر پر رکھ دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا، "مجھے سمجھ نہیں آئی کہ محمد رضوان کو کیوں ٹیم سے باہر کیا گیا، یہ فیصلہ سلیکٹرز ہی بتا سکتے ہیں۔"
واضح رہے کہ محمد رضوان کو 27 اکتوبر 2024 کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے دورہ آسٹریلیا سے قبل وائٹ بال ٹیم کا کپتان نامزد کیا تھا۔ رضوان نے 17 ون ڈے میچز میں ٹیم کی قیادت کی، جن میں 8 میں کامیابی اور 9 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ چیمپئنز ٹرافی کے پہلے ہی راؤنڈ میں ٹیم باہر ہوگئی۔