شہر بھر میں عید الاضحیٰ کی تیاریاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں جہاں جانوروں کی قربانی کی خریداری کے ساتھ ساتھ شہریوں کی توجہ چھریوں، ٹوکوں اور دیگر قربانی کے آلات کی تیز کاری پر بھی مرکوز ہو گئی ہے۔
بازاروں میں چھریوں اور ٹوکوں کی دکانوں پر رش بڑھ گیا ہے اور لوگ لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر اپنی چھریاں تیز کروانے کے لیے آ رہے ہیں تاکہ سنت ابراہیمی کی ادائیگی میں کوئی کمی نہ رہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ اس سال پہلے کی نسبت بازاروں میں زیادہ بھیڑ ہے اور نہ صرف نئی چھریاں خریدی جا رہی ہیں بلکہ پرانی چھریاں اور ٹوکے بھی تیز کروانے کے لیے لائے جا رہے ہیں۔شہری بھی قربانی کو عبادت سمجھتے ہوئے چھری اور ٹوکہ تیز کروانے کو عبادت کا حصہ قرار دے رہے ہیں اور اس کے لیے ہر ممکن احتیاط اور تیاری کر رہے ہیں۔
علاوہ ازیں، گلی محلوں میں بھی چھوٹے پیمانے پر چاقو تیز کرنے والوں کا کاروبار عید کے موقع پر خوب چمک رہا ہے جہاں سستے داموں چھریوں اور ٹوکوں کی تیز کاری کی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔قربانی کے موقع پر چھریوں کی تیز کاری کی اہمیت کی وجہ سے شہری مکمل احتیاط کے ساتھ اپنے آلات کی جانچ اور تیزی کا خیال رکھ رہے ہیں تاکہ قربانی کے دوران آسانی اور سہولت ہو اور عبادت کی روح بھی برقرار رہے۔