سعودی عرب اور عرب دنیا میں عیدالاضحیٰ مذہبی جوش و جذبے سے منائی جا رہی ہے

سعودی عرب اور عرب دنیا میں عیدالاضحیٰ مذہبی جوش و جذبے سے منائی جا رہی ہے

سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک میں آج عیدالاضحیٰ نہایت مذہبی جوش و خروش اور عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔

 لاکھوں مسلمانوں نے مسجد الحرام (مکہ مکرمہ) اور مسجد نبوی (مدینہ منورہ) میں نمازِ عید کے عظیم الشان اجتماعات میں شرکت کی۔ ان مقدس مقامات پر حاضری دینے والے مسلمانوں نے امت مسلمہ، خصوصاً مظلوم مسلمانوں کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔

حج کے اہم مناسک:
حجاج کرام نے عرفات میں وقوفِ عرفہ کا سب سے اہم رکن جمعرات کو ادا کیا، جس میں 16 لاکھ سے زائد حجاج شریک ہوئے۔ اس موقع پر حجاج نے امت مسلمہ کے اتحاد اور فلسطینی بھائیوں کی آزادی کے لیے دعائیں کیں۔اس کے بعد حجاج کرام مزدلفہ سے رات گزارنے کے بعد آج منیٰ پہنچے، جہاں وہ حج کے تین اہم مناسک ادا کر رہے ہیں:

رمی جمرات (بڑے شیطان کو کنکریاں مارنا)
قربانی (حضرت ابراہیمؑ کی سنت کی پیروی میں)
حلق یا قصر (سر منڈوانا یا بال کٹوانا)
ان مناسک کی ادائیگی کے بعد حجاج احرام کھول دیتے ہیں اور عام لباس پہن لیتے ہیں۔

عالمی اسلامی قیادت کی مبارکبادیں:
عید کے موقع پر سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کو مختلف اسلامی ممالک کے سربراہان کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ ان پیغامات میں اسلامی اتحاد، خیرسگالی اور عالمِ اسلام کے مسائل پر یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔

فلسطین کے لیے خصوصی دعائیں:
مسجد الحرام کے امام، شیخ ڈاکٹر صالح بن عبداللہ بن حمید نے عید کے خطبے اور دعا میں فلسطینی عوام کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔ ان کا کہنا تھا:"اے اللہ! فلسطین میں ہمارے بھائیوں کو دشمن پر غالب فرما۔ ان کی مدد فرما، ان پر اپنی رحمت نازل فرما، اور ان کے زخموں پر مرہم رکھ۔"
مجموعی پیغام:
اس سال بھی عیدالاضحیٰ کا پیغام قربانی، اخوت، اور امت مسلمہ کے اتحاد کا علمبردار رہا۔ دنیا بھر میں مسلمان نہ صرف حضرت ابراہیمؑ کی سنت پر عمل پیرا ہو رہے ہیں بلکہ فلسطین جیسے مظلوم خطوں کے مسلمانوں کے لیے یکجہتی اور دعا کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔