کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) کے پاکستان ڈویژن ڈائریکٹر سائمن اینڈریوز نے ملاقات کی، جس میں صحت، سماجی تحفظ، زراعت، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، قابلِ تجدید توانائی اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
ملاقات میں صوبائی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی جام خان شورو، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف عباس، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نجم شاہ، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی جبکہ آئی ایف سی کے وفد میں ناز خان اور سحر اعتزاز بھی شریک ہوئے۔اجلاس کے دوران سندھ میں بین الاقوامی معیار کے ڈیٹا سینٹرز، قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں اور نجی شعبے کی شمولیت سے ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ نجی شعبے کے ذریعے قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار میں اضافہ حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ زرعی سپلائی چین، اسٹوریج اور پراسیسنگ سہولیات کی بہتری سے کسانوں کی آمدن میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سندھ میں بڑی تعداد میں چھوٹے کسان 25 ایکڑ تک اراضی کے مالک ہیں، جنہیں گروپس کی صورت میں سبسڈی پر ٹریکٹر فراہم کیے جائیں گے تاکہ مشترکہ کاشتکاری کو فروغ دیا جا سکے اور زرعی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو۔
آئی ایف سی کے وفد نے انسانی وسائل، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا، جبکہ بچوں میں غذائی قلت اور نشوونما کی کمی کے خاتمے کے پروگرام میں بھی تعاون پر اتفاق کیا گیا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت سالانہ 15 ہزار نرسز تیار کرنے کا ہدف مقرر کر رہی ہے، کیونکہ پاکستان میں نرسنگ کے شعبے میں افرادی قوت کی شدید کمی ہے۔ ان کے مطابق نرسنگ کی تعلیم اور تربیت کے جامع نظام کی تیاری کے لیے آئی ایف سی کے ساتھ مشترکہ طور پر کام کیا جائے گا۔اجلاس میں موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) منصوبوں کا حصہ بنانے پر بھی مشاورت ہوئی۔ سائمن اینڈریوز نے کہا کہ آئی ایف سی کا سسٹین ایبل انفراسٹرکچر ایڈوائزری پروگرام سندھ حکومت کو تکنیکی معاونت فراہم کرے گا۔
اس موقع پر سندھ کے پی پی پی یونٹ نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے آئی ایف سی سے تکنیکی تعاون کی درخواست بھی کی، جبکہ دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کو موسمیاتی خطرات کے مقابل زیادہ مضبوط، محفوظ اور پائیدار بنایا جائے گا۔