گاڑی کی لوکیشن کی مدد سے رضا ڈار کو ٹریس کیا گیا: ڈی آئی جی فیصل کامران

بیانات نے یہ واضح کر دیا ہے کس نے زیادتی کی اور کس نے متاثرہ لڑکیوں کو دھمکیاں دیں، تمام قانونی تقاضے بروقت مکمل کیے گئے
لاہور(کرائم رپورٹر)صوبائی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کا کہنا تھا کہ غیر ملکی لڑکیوں کے کیس میں دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کرائے گئے بیانات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ کس نے زیادتی کی اور کس نے متاثرہ لڑکیوں کو دھمکیاں دیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے معاملے کا فوری نوٹس لیا، جس کے بعد پولیس نے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے تحقیقات کو تیز کیا۔فیصل کامران کا کہنا تھا گاڑی کی لوکیشن کی مدد سے رضا ڈار کو بھی ٹریس کیا گیا اور تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ایک بااثر شخصیت کا قریبی رشتہ دار بھی واقعے میں ملوث ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلسل تحقیقات کے نتیجے میں دونوں غیر ملکی لڑکیوں کو بحفاظت بازیاب کرایا گیا۔ ۔فیصل کامران نے کہا کہ دونوں لڑکیوں کے بیانات عدالت کے روبرو ریکارڈ کیے گئے، اس موقع پر نیدرلینڈز کے قونصلر بھی موجود تھے۔ تمام قانونی تقاضے بروقت مکمل کیے گئے اور بعد ازاں سفارتخانوں کی درخواست پر دونوں لڑکیوں کو بحفاظت ایئرپورٹ پہنچایا گیا۔انہوں نے بتایا کہ دونوں غیر ملکی لڑکیوں نے پولیس کی تحقیقات پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کے بعد تحقیقات میں مزید پیش رفت ہوئی اور اہم برآمدگیاں بھی کی گئیں۔دوران پریس کانفرنس ایک سوال کے جواب میں ڈی آئی جی نے کہا کہ مجسٹریٹ کا گھر چند روز قبل ہی دوسری جگہ منتقل ہو چکا تھا جبکہ مجسٹریٹ کے گھر میں داخل ہونے پر متعلقہ ایس ایچ او کو معطل کر دیا گیا ہے۔